English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمنی،اسکولوں میں طالبات کے برقع پر پابندی

القمر

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی کی ریاست بادن وورتمبرگ میں حکومت نے اسکول کی طالبات کے چہرہ ڈھانپنے پر بھی پابندی کردی ہے۔ اس سے قبل صرف استانیوں کے نقاب یا برقع پہننے پر پابندی تھی۔ خبررساں اداروں کے مطابق مغربی جرمنی کی اس ریاست نے اسکولوں میں مکمل چہرہ چھپانے والے برقع یا نقاب کے پہننے پر پابندی عائد کی ہے۔ نقاب سے متعلق اس نئے اصول کو ایک ایسے وقت پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب جرمنی میں مسلمانوں کے نقاب پہننے یا پردے کے لیے پوری طرح سے چہرے کو چھپانے سے متعلق جہاں گرما گرم بحث جاری رہی ہے وہیں ہیمبرگ کی ایک عدالت نے شہر میں عائد اس طرح کی پابندی کو مسترد کر دیا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ اور گرین پارٹی کے سرکردہ رہنما ونفرید کریتشمن نے ہرزہ سرائی کی ہے کہ چہرے کا مکمل پردہ آزاد معاشرے کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے خود یہ بات تسلیم کی کہ اسکولوں میں مکمل طور پر چہرہ ڈھانپنا شاذ و نادر بات ہے، تاہم ساتھ ہی زور دیا کہ ان اکا دوکا واقعات کے لیے بھی فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی سطح پر جہاں طلبہ بالغ ہوتے ہیں، وہاں اس طرح کی پابندی سے متعلق سوال قدرے پیچیدہ ہے۔ فی الوقت یہ اصول ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے لیے ہی ہے۔ جرمنی میں جو افراد نقاب پہننے یا پردے کے لیے چہرے کو مکمل طور پر ڈھکنے کی مخالفت کرتے ہیں، ان کا موقف ہے کہ اس طرح کی پابندی لڑکیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ ان پر اس کے لیے زور زبردستی کرنے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی حکمراں جماعت میں شامل جولیا کلوکنیر سمیت قدامت پسند جماعتوں کے سرکردہ رہنما ملک گیر سطح پر برقع یا نقاب پر پابندی کے حامی ہیں۔ گرین پارٹی میں اس امر پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں، تاہم اسکولوں میں اس پابندی کے وہ بھی حامی ہیں، اسی لیے انہوں نے اس کی حمایت کی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اصول و ضوابط اور سختیوں کی وجہ جرمنی میں مسلمانوں کے سیاسی منظرنامے پر ابھر کر آنے کا خدشہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے