واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو 2020 ء کی مردم شماری میں نہ شامل کرنے سے متعلق حکم نامے پر دستخط کردیے۔ وائٹ ہاؤس کی میڈیا ترجمان نے پنے بیان میں کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو کانگریس میں نمایندگی اور سیاسی اثر رسوخ دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چور دروازوں سے داخل ہوکر پناہ حاصل کرنے والے ہمارے قوانین کی واضح طور پر توہین کرتے رہے ہیں۔ مردم شماری کا مقصدقانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم ہے ۔ غیر قانونی طور پر مقیم افرادکو شامل کرنے کے اچھے نتائج نہیں ہوں گے اور نظامِ حکومت کو نقصان پہنچے گا۔ واضح رہے کہ امریکا میں ہر 10 سال بعد مردم شماری کی جاتی ہے، تاہم رواں سال کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے مردم شماری کے عمل کا دورانیہ بھی بڑھایا گیا ہے۔ دوسری جانب ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا خصوصی حکم نامہ عدالت میں آسانی سے چیلنج ہو جائے گا۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے قائد چک شومر نے ردِ عمل میں کہا کہ حکم نامے کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ عدالتیں حکم نامے کو رد کر دیں گی۔ چک شومر کا کہنا تھا کہ سیاسی فائدے کے لیے کیا جانے والا یہ اقدام امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کا ایک اور نسل پرستانہ حملہ ہے۔ وہ تارکین وطن کو دشمنوں کے روپ میں دیکھتے ہیں۔
امریکا ،مردم شماری میں غیر قانونی تارکین وطن کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ
القمر
