English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا میں مزید 12لاکھ افراد کی سرکاری امداد کیلیے درخواست

القمر

 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں جاری کورونا بحران کے دوران گزشتہ ہفتے مزید 12 لاکھ شہریوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں دیں۔ امریکی لیبر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جمعرات کے روز جاری کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کے دوران یہ مسلسل بیسواں ہفتہ ہے کہ 10 لاکھ سے زائد امریکی شہریوں کو حکومتی امداد حاصل کرنے کے لیے دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ اس سے گزشتہ ہفتے کے دوران بے روزگاری الاؤنس کے لیے حکومت سے رجوع کرنے والے افراد کی تعداد اس سے 2لاکھ 49 ہزار کم تھی۔ تعداد میں اس کمی کا تعلق ممکنہ طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ہفتے مہیا کی گئی اضافی رقم سے تھا۔ گزشتہ ہفتے تک امریکا کی وفاقی حکومت بے روزگار ہونے والے ہر فرد کو ریاستوں کی طرف سے دیے گئے الاؤنس کے علاوہ ہر ہفتے 600 ڈالر کی اضافی امداد فراہم کر رہی تھی، لیکن جولائی کے اختتام پر وفاقی امداد فراہم کرنے کی معیاد ختم ہو گئی ہے، جس کے باعث لوگ مزید بدحال ہو رہے ہیں۔ اب جب کہ امریکا کی کئی ریاستوں میں کورونا کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ایک نئے ریلیف پیکیج پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ ابھی تک اس بات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا کہ نئے پیکیج کے تحت بے روزگار افراد کو کب تک اور کتنی وفاقی امداد فراہم کی جائے گی۔ برسر اقتدار ری پبلکن پارٹی نے تجویز کیا ہے کہ بے روزگاروں کے لیے ہفتہ وار اضافی امداد کم کر کے اسے 200 ڈالر کر دیا جائے اور بعد میں اسے بے روزگار ہونے والے افراد کی تنخواہوں کے 70 فیصد کے مساوی مقرر کیا جائے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کے ڈیموکریٹک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس ہفتہ وار امداد کو پہلے پیکیج کی طرح 600 ڈالر پر برقرار رکھا جائے اور موجودہ صورت حال کے پیش نظر اس سلسلہ کو اس سال کے آخر تک جاری رکھا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے