

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کسانوں کے حکومت مخالف احتجاج کے باعث مودی سرکار شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ گزشتہ روز مظاہرین کی حمایت میں ر یلی نکالنے پر حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف چھاپا مار کارروائیاں شروع کردی گئیں اور اس دوران دارالحکومت دہلی کی پولیس نے ایوان صدر تک مارچ کے دوران پریانکا گاندھی سمیت کئی دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ وفد کا کہنا ہے کہ وہ صدر رام ناتھ کووند کو متنازع زرعی قوانین کے خلاف 2 کروڑ دستخطوں پر مشتمل ایک یادداشت حوالے کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر راہول گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک حکومت کسان دشمن قوانین واپس نہیں لیتی۔ بعد ازاں پریانکا گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کو رہا کردیا گیا۔ دریں اثنا دہلی سے ملحق نوئیڈا سرحد پر دھرنے پر بیٹھے بھارتیہ کسان یونین (لوک شکتی) کے سربراہ شیوراج سنگھ نے اپنے خون سے وزیر اعظم مودی کے نام خط لکھ کر زرعی قوانین واپس لینے کی اپیل کی۔ یاد رہے کہ مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دھرنے پر بیٹھے 41 کسان اب تک اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
