

چندی گڑھ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست پنجاب کی حکومت نے مودی سرکار کے اشارے پر کسان مظاہرین کے خلاف تخریب کاری کے الزام میں تحقیقات شروع کردی۔ مظاہروں کے دوران سیکڑوں ٹیلی کام ٹاوروں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور اب احتجاج کرنے والے کسانوں کو تخریب کاری میں ملوث قرار دے کر ان پر مقدمات ڈالے جارہے ہیں۔ پنجاب حکومت کے سینئر عہدہ دار نے بتایا کہ پولیس کو انفرااسٹرکچر کی تخریب کاری میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج کے دوران کئی ٹاوروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوئی۔ ان میں زیادہ تر جیو کی ملکیت ہیں۔ یہ موبائل فون کمپنی مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کا حصہ ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق ریاست بھر میں 1400 ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا اوران کی بجلی کاٹ دی گئی۔ دوسری جانب نئی دہلی میں وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کی متنازع زرعی اصلاحات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کسانوں نے دارالحکومت کے نواح میں 5بڑی سڑکوں پر دھرنا دے رکھا ہے احتجاج کرنے والے کسانوں اور کاشت کاروں میں زیادہ تر کا تعلق ریاست پنجاب اور ہریانہ سے ہے۔ انھوں نے نئی دہلی کی جانب جانے والی شاہراہوں پر احتجاجی کیمپ لگا رکھے ہیں۔ ادھر بھارت کے معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ انا ہزارے کا کہنا تھا کہ وہ ظالمانہ زرعی قوانین کے خلاف 3 سال سے احتجاج کررہے ہیں اور اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ جنوری سے دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ 83 سالہ سماجی کارکن نے اعلان کیا یہ ان کا آخری احتجاج ہوگا۔
