کوئٹہ/کراچی/اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر +نمائندگان جسارت)سانحہ مچھ کے متاثرین کا کوئٹہ شاہراہ پر میتوں کے ساتھ دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا جب کہ احتجاج مزید شہروں تک پھیل گیا ہے، وفاقی وزرا اور صوبائی حکومت کی متعدد کوششوں کے باوجود مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا اور ہر قسم کے مذاکرات وزیراعظم کی آمد سے مشروط کردیے۔کوئٹہ میں مظاہرین نے مغربی بائی پاس کو دونوں اطراف سے ٹائر جلا کر بند کررکھا ہے اور ہر قسم کے ٹریفک کی روانی معطل ہے۔وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی اور زلفی بخاری بھی کوئٹہ دھرنے میں پہنچے اورمنتظمین سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی تاہم ان کی کوشش بھی رائیگاں چلی گئی۔ علی زیدی نے کہا کہیقین دلاتا ہوں وزیراعظم عمران خان لواحقین سے ملاقات کرنے ضرور آئیں گے، میتوں کی تدفین کردیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی دھرنا منتظمین سے ملاقات کے لیے گئے اور انہیں لاشیں دفنانے اور دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی تاہم ہزارہ برادری اور دھرنا منتظمین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ہماری داد رسی کے لیے خود یہاں آئیں، ان کے آنے تک دھرنا جاری رہے گا۔ دریں اثنابلوچستان حکومت نے سانحہ مچھ میں انتظامی غفلت کی تحقیقات کے لییکمیٹی قائم کردی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان و قبائلی امور نے نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کے چیئرمین کر یں گے ،کمیٹی پندرہ دنوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ مجاز حکام کو پیش کرے گی۔ دوسری جانب سانحہ مچھ متاثرین کے حق میں اسلام آباد ڈی چوک میں بھی غیرمعینہ مدت کے لیے دھرنا دے دیا گیا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت ڈی چوک کو سیکورٹی اداروں نے سیل کردیا۔اہم مقامات پربھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ۔دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف خود وزیراعظم کے ساتھ کوئٹہ میں جائیں، بلوچستان کے لیے سیکورٹی کے خصوصی پلان کا اعلان کیا جائے۔ مظاہرین نے کہا کہ وزیراعظم سانحہ مچھ کے متاثرین سے ملاقات آج جمعرات کو کوئٹہ جائیں ، بصورت دیگر کل جمعہ کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ادھر کراچی میں بھی 15مقام پر دھرنے دیے گئے ،جن میں نمائش چورنگی، نیپا چورنگی، یونیورسٹی روڈ سفاری پارک ، ابوالحسن اصفہانی روڈ عباس ٹاؤن، گلستان جوہرکامران چورنگی، شارع فیصل ناتھا خان، کالونی گیٹ نمبر5 ، ملیر15 ،قائد آباد ،شاہ فیصل کالونی ،نارتھ کراچی پاورہاؤس چورنگی، سرجانی خدا کی بستی اور ناظم آباد نمبر1چورنگی شامل ہیں۔ دھرنوں کے سبب سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، دفتر سے گھر جانے والے شہریوں نے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا جبکہ متعدد گاڑیوں کا ایندھن ختم ہوگیا، ٹریفک پولیس کے افسران و جواں سڑکوں پر ٹریفک بحال کرانے کی کوشش کرتے رہے اور شہریوں کو متبادل راستے بتاتے رہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ازراہِ کرم اپنے پیاروں کودفن کیجئے تاکہ ان کی روحیں آسودگی پائیں۔انہوں نے کہاکہ ہزارہ برادری کے دکھوں اور مطالبات سے آگاہ ہوں، پڑوسی ملک فرقہ وارانہ دہشت گردی کوہوا دے رہاہے ، مستقبل میں ایسے حملوں کے تدارک کے لیے ہم اقدامات اٹھارہے ہیں۔لواحقین سے تعزیت کے لیے جلدآؤں گا، اپنے عوام کے اعتماد سے خیانت نہیں کروںگا،پہلے بھی مشکل وقت میں ہزارہ برادری کے پاس آیا ہوں۔

