

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکا یمنی باغی حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ واپس لے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مارک لوکاک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی بریفنگ کے دوران بتایا کہ وہ امریکا سے باقاعدہ درخواست کریں گے کہ وہ یمنی حوثی ملیشیا کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ بدل دیں کیوں کہ اس فیصلے کی وجہ سے ملک ایسی بھیانک قحط سالی سے دوچار ہو جائے گا، جو گزشتہ تقریباً 40 برس میں دنیا میں کہیں نظر نہیں آئی۔ مارک لوکاک نے کہا کہ امریکا کی جانب سے امدادی ایجنسیوں کو لائسنس جاری کرنے اور بعض مراعات دینے کے باوجود یمن میں قحط سالی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی تحریک کو غیر ملکی دہشت گر د تنظیم قرار دینے والے ہیں، جس کے بعد حوثی ملیشیا کی مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے مقابلے کے لیے اضافی ذرائع فراہم ہو جائیں گے۔ امریکی اعلان کے بعد سفارت کاروں اور امدادی گروپوں نے اس طرح کے کسی بھی اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن مذاکرات خطرے میں پڑ جائیں گے اور یمنی شہریوں کو امداد کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوگی۔
