English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بابراعظم نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں بہترین کپتانی کا مظاہرہ کیا، انضمام الحق

لاہور: لیجنڈری بلے باز انضمام الحق نے میزبان پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ بابراعظم نے میچ میں بہترین کپتانی کا مظاہرہ کیا، ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ میں کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انضمام الحق نے کہا کہ انجری کے بعد کرکٹ میں واپسی اور پھر پہلی مرتبہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی وجہ سے بابراعظم پر دباؤ تھا، ایسے میں ٹاس کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی مگر بابراعظم ثابت قدم رہے، ٹاس ہارنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے بھرپور مزاحمت پر وہ بابراعظم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

قومی ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ دوران میچ بابراعظم نے جو فیلڈ پوزیشن برقرار رکھی ، اس سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ میچ کی پہلی اننگز میں فواد عالم نے شاندار سنچری اسکور کی، وہ یہاں کی پچ اور کنڈیشنز سے بخوبی آگاہ ہیں۔

سابق لیجنڈری بلے باز کا کہنا تھا کہ فواد عالم نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ یہاں فرسٹ کلاس کرکٹ میں دس سنچریاں بناچکے ہیں، پاکستان کی پہلی اننگز میں فواد عالم اور اظہر علی کی پارٹنرشپ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ستائیس رنز پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد جس انداز میں ان دونوں بلے بازوں نے اپنے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو مشکلات کے بھنور سے نکالا وہ قابل ستائش ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ مشکل کنڈیشنز میں تجربہ کار کھلاڑی اپنی قابلیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں، فواد عالم اور اظہر علی نے بھی پاکستان کے لیے یہی کردار ادا کیا، یہ ان دونوں کی عمدہ پارٹنرشپ ہی تھی کہ جس کی وجہ سے پہلے فہیم اشرف نے 64 رنز کی اننگز کھیلی پھر حسن علی، نعمان علی اور یاسر شاہ نے بھی بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، ٹیل اینڈرز کے بلے سے آنے والے ان قیمتی رنز نے میچ میں پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم کردی۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میچ کے دوران ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے پر وہ نعمان علی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ میں انہی کنڈیشنز پر مسلسل وکٹیں حاصل کرنے کی وجہ سے نعمان علی دوران ڈیبیو بہت پراعتماد نظر آئے۔ انہوں نے ایک مخصوص لائن پر مستقل باؤلنگ کی، جس سے حریف بلے بازوں نے غلطی کرکے وکٹیں گنوائیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میچ سے پہلے پاکستان کو اوپننگ بیٹنگ کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، وہ اس حق میں ہیں کہ ان دونوں اوپنرز عابدعلی اور عمران بٹ کو مزید موقع دیا جائے، عابد علی پاکستان میں لمبے رنز کرنے کا ہنر جانتے ہیں جبکہ عمران بٹ نے ابھی ایک ہی میچ کھیلے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلاشبہ کراچی کی پچ بیٹنگ کے لیے زیادہ سازگار نہیں تھی مگر ہمارے اوپنرز کو رنز کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ میچز میں مڈل آرڈر بیٹنگ لائن اپ پر دباؤ کم ہو۔

نعمان علی نے ڈیبیو پر ہی ریکارڈز کا کھاتہ کھول لیا

بابربطورکپتان اولین ٹیسٹ میں فتح پانے والے نویں قومی کرکٹر بن گئے ۔  فوٹو : اسکائی اسپورٹس

لاہور: نعمان علی نے ڈیبیو پر ہی ریکارڈز کا کھاتہ کھول لیا، وہ کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ کی اننگز میں 5وکٹیں حاصل کرنے والے تاریخ کے چوتھے معمرترین اسپنر اور ساتویں بولر بن گئے۔

نعمان علی پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے چوتھے معمر ترین کرکٹر کے طور پر نیشنل اسٹیڈیم کے میدان پر اترے تھے، اس وقت ان کی عمر 34سال اور 111دن تھی،اس سے قبل میراں بخش 47سال 284دن، ذوالفقار بابر 34سال 308دن اور محمد اسلم 34سال 177دن کی عمر میں پہلا ٹیسٹ کھیلنے میں کامیاب رہے تھے۔

نعمان ڈیبیو میچ کی کسی اننگز میں 5وکٹیں حاصل کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے چوتھے معمرترین اسپنر اور ساتویں بولر ہیں،پہلے ہی ٹیسٹ میں 5وکٹوں کا کارنامہ سرانجام دینے والے معمر ترین پاکستانی بولرز میں بھی وہ سہرفہرست ہیں۔

کراچی ٹیسٹ سے قبل مجموعی طور پر پاکستان کے 11بولرز نے ڈیبیو ٹیسٹ میں 5 وکٹیں اڑاکر دھاک بٹھائی تھی، ان میں عارف بٹ،محمد نذیر، شاہد نذیر،محمد زاہد،شاہد آفریدی،محمد سمیع،شبیر احمد، یاسر عرفات، وہاب ریاض،تنویر احمد اور بلال آصف شامل ہیں۔

نعمان علی نے 12ویں بولر کے طور پر اس فہرست میں اپنا نام درج کرایا،ڈیبیو ٹیسٹ میں زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز میں نعمان علی چھٹے نمبر پر آگئے،محمد زاہد نے 130رنز دے کر11شکار کیے تھے،اعزاز چیمہ،محمد سمیع، شبیر احمد اور عبدالرحمان نے اپنا پہلا ہی میچ 8،8وکٹوں سے یادگار بنایا تھا، نعمان علی نے 73رنز دیکر 7شکار کیے۔

دوسری جانب بابر اعظم نے بطور ٹیسٹ کپتان ڈیبیو پر فتح حاصل کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرا لیا، اس سے قبل فضل محمود،مشتاق محمد،جاوید میانداد، وقار یونس، سلیم ملک، رمیز راجہ، محمد یوسف اورسلمان بٹ نے پہلی بار قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔

منبع: ایکسپریس نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے