نیپیداؤ/اسلام آباد /واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک/خبرایجنسیاں)میانمار کی فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر سیاسی رہنما آنگ سان سوچی سمیت حکمراں جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے‘ ملک کا انتظام فوجی کمانڈر انچیف نے سنبھال لیا‘ جلدنئے انتخابات کرانے کا اعلان‘ دارالحکومت نیپیداؤمیں جگہ جگہ فوجی اہلکار گشت کر رہے ہیں اور ٹیلی فون سروس اور سرکاری ٹی وی کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کاروباری شہر ینگون سے رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔ فوج نے ملٹری ٹیلی ویژن پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے سیاسی قیادت کو نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک بھر میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔امریکا ویورپی یونین سمیت کئی ممالک کی مذمت‘ جمہوری نظام بحال اور گرفتار رہنماؤں کی رہائی کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق میانمبر میں فوج اور آن سان سوچی کے درمیان گزشتہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد جاری کشیدگی انجام کوپہنچ گئی ، فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا‘ آن سان سوچی سمیت اہم سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ‘فوجی حکام نے اقتدار پر قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کمانڈر ان چیف من آنگ ہلاینگ نے سنبھال لیے ہیں، فوجی ترجمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ جلد انتخابات کراکر اقتدار جمہوری حکومت کے حوالے کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فوج نے گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے تاہم الیکشن کمیشن نے انہیں رد کر دیا تھا۔ میانمار میں 5 دہائیوں تک فوجی آمریت کے بعد2015ء میں جمہوری نظام بحال ہوا تھا۔ دوسری جانب اقتدار پرفوجی قبضے کے بعددنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آیاہے۔ امریکا سمیت متعدد ممالک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکا میانمار کی میں جمہوریت کی بحالی چاہتا ہے جبکہ ملکی سربراہ آنگ سان سوچی اور دیگر سویلین عہدیداروں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میانمار کی فوج ان اقدامات کو واپس نہیں لیتی تو ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کو آنگ سان سوچی کو حراست میں لیے جانے اور میانمر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ ترجمان جین ساکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا میانمار کے حالیہ انتخابات کے نتائج اور جمہوری انتقالِ اقتدار میں خلل ڈالنے کے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔ ملائیشیا نے میانمار کی فوج اور سیاسی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ اس پیش رفت سے میانمار میں جمہوری عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچی اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔یورپی کونسل کے صدر شارل میشل نے فوج سے جمہوری نظام بحال اور گرفتار کیے جانے والے تمام سیاسی رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہ اقدامات واپس نہیں لیے گئے تو امریکا ذمے داروں کے خلاف اقدامات اٹھائے گا۔ آسٹریلیا کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اقتدار پر قبضے کی خبروں پر تشویش ہے۔ آسٹریلیا نے زیرِ حراست رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ جاپان نے کہا ہے کہ وہ میانمار کی صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے اور فوری طور پر اپنے شہریوں کو وطن واپس لانے کا کوئی منصوبہ زیرِِ غور نہیں۔پاکستان نے میانمار میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں توقع ظاہر کی ہے کہ تمام جماعتیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن نتائج کے لیے تعمیری کام کریں گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ، میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر کے سویلین رہنما آنگ سان سوچی کو حراست میں لیا اور ایک سال کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔پیر کو ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم میانمار میں ہونے والی پیشرفت کاقریب سے جائزہ رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس میں شامل تمام جماعتیں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھیں اور پر امن نتائج کے لیے تعمیری انداز میں کام کریں گی۔
