English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میانمر میں فوج مخالف انوکھا احتجاج مظاہرین کیخلاف کریک ڈائون

میانمر میں فوجی بغاوت کے خلاف شہری کشتیوں پر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں فوج کی جانب سے آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق مظاہروں کے دوران شہریوں نے احتجاج کا انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ ملک کے جنوبی حصے کی بڑی جھیل میں شہریوں نے بڑی تعداد میں کشتیوں میں سوار ہوکر فوج کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ادھر اقوام متحدہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ میانمر کی فوجی قیادت انتخابی نتائج کا احترام کرے۔ انہوں نے بتایا کہ میانمر میں فوجی بغاوت کے بعد سے حکومتی عہدے داروں اور کارکنان سمیت 350سے زائد افراد گرفتار ہیں۔ عوام پر تشدد فوجی بغاوت کے غیرآئینی ہونے کوظاہرکرتاہے،لہٰذا میانمر پر پابندیوں میں صرف فوجی حکام اورمخصوص افراد کونشانہ بنایاجاناچاہیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوزی لینڈ، امریکا اور یورپی ممالک کی مخالفت کے باوجود میانمر کی فوجی قیادت عوام پر طاقت کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ جواب میں شہری بھی بغاوت کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ گزشتہ روز نوجوانوں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں نے جھیل میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر جمہوریت کے حق میں نعرے درج تھے۔ شہریوں نے سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ دارالحکومت نیپیداؤ، ینگون اور دیگر مقامات پر ہزاروں افراد نے حکومت کے حق میں مظاہرے کیے۔ دوسری جانب فوجی رہنماؤں نے قبضے کے خلاف پھیلتی ہوئی تحریک میں شامل سرکاری ملازمین سے کام پر لوٹنے کی درخواست کردی۔ سینئر جنرل من آنگ ہلائن نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ بعض دشمنوں کے بہکاوے میں آکر اپنے فرائض کی ادائیگی سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے