English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صبح ایک مخصوص وقت پر ناشتہ کرنا ذیابیطس سے بچانے میں مددگار

جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔

اگر تو آپ ناشتے کو اہمیت نہیں دیتے تو جان لیں کہ اپنے دن کا آغاز صحت کے لیے ناقص غذا سے کرنا انتہائی نقصان دہ اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ ناشتے کا وقت بھی اس حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے، بالخصوص بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے اور انسولین کی مزاحمت کا خطرہ کم کرنے کے لیے۔

جو افراد صبح ساڑھے 8 بجے تک ناشتا کرلیتے ہیں، ان میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صبح جلد ناشتا کرنے والے افراد کا بلڈ شوگر لیول کم ہوتا ہے جبکہ انسولین کی مزاحمت بھی کم ہوتی ہے۔

انسولین کی مزاحمت اس وقت ہوتی ہے جب جسم انسولین کے حوالے سے درست ردعمل پیدا نہیںن کرپاتا اور خلیات میں داخل ہونے والی گلوکوز کی مققدار کم ہوتی ہے۔

انسولین کی مزاحمت اور زیادہ بلڈ شوگر دونوں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس کی شرح میں اضافے کے باعث ضروری ہے کہ غذائی عادات پر غور کیا جائے تاکہ خطرات کو کم کیا جاسکے۔

محققین نے بتایا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں یہ دریافت ہوا ہے کہ مخصوص اوقات میں غذا کے استعمال سے میٹابولک صحت بہتر ہوتی ہے، اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ صبح جلد ناشتا کرنا کس حد تک میٹابولک صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔

محققین نے 10 ہزار سے زیادہ بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائہ لیا جو امریکا کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سروے کا حصہ بنے تھے۔

ان افراد کو دن بھر میں کھانے کے مجموعی اوقات کے دوران جزوبدن بنانے کے حوالے سے 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ایک گروپ ایسے افراد کا تھا جو دن بھر کی غذا 10 گھنٹے میں کھانے کا عادی تھے، دوسرا 10 سے 13 اور تیسرا 13 گھنٹے سے زائد میں غذا کے استعمال کرنے والے افراد پر مشتمل تھا۔

بعدازاں ان کو مزید 6 چھوٹے گروپس میں تقسیم کیا گیا جن کی تشکیل غذا کے آغاز یعنی صبح ساڑھے 8 بجے سے پہلے یا بعد کی بنیاد ہر کی گئی۔

اس ڈیٹا کا تجزیہ کرکے تعین کرنے کی کوشش کی گئی کہ کھانے کے مخصوص اوقات کا خالی پیٹ بلڈ شوگر لیول اور انسولین کی مزاحمت سے تعلق ہے یا نہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دن بھر میں مجموعی غذا کے دورانیے سے کوئی نمایاں اثر مرتب نہیں ہوتا، تاہم صبح ساڑھے 8 بجے ناشتا کرنے والے افراد میں بلڈ شوگر لیول اور انسولین کی مزاحمت کی شرح کم ہوتی ہے۔

اس سے قبل 2018 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک مخصوص وقت سے پہلے ناشتہ کرلینا موٹاپے سے بچانے بلکہ اس سے نجات کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

حقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت نہ صرف موٹاپے بلکہ مختلف امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو، بلڈ پریشر اور امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ کرنے سے کھانے کے بعد کے گلوکوز اور انسولین کے ردعمل کو ریگولیٹ کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ گلیسمیک کنٹرول بہتر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے سے پہلے ناشتہ کرنا میٹابولزم ریٹ کو بہتر کرکے جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ناشتہ نہ کرنا نہ صرف میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے بلکہ جسمانی سستی کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے افعال کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اور ناشتہ نہ کرنے پر وہ دن کے کسی بھی حصے میں کسی بھی چیز کی خواہش کرنے لگتا ہے، جس سے طویل المعیاد بنیادوں پر وزن بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اچھا ناشتہ کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے جو بے وقت کھانے کی خواہش کو کم کرنے کے لیے ساتھ بسیار خوری کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ناشتہ دن کیلئے سب سے اہم غذا کیوں؟

— شٹر اسٹاک فوٹو

کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اگر نہیں تو جانیں کہ طبی سائنس ناشتے کے کن فوائد کو اب تک سامنے لاچکی ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ اکثر ناشتہ نہیں کرتے ان میں موٹاپے کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ دن بھر میں جنک فوڈ یا ناقص غذا کا استعمال ہوتا ہے۔

ذہنی کارکردگی بہتر کرے

ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتہ کرنا درحقیقت توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ یہ یاداشت میں بہتری لانے کے ساتھ دیگر ذہنی افعال کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

صحت بخش غذا کا زیادہ استعمال

یہ بات سائنسی طور پر طے ہوچکی ہے کہ جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ صحت کے لیے فائدہ مند غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

میٹابولزم کے لیے فائدہ مند

صبح اٹھنے کے بعد اچھا ناشتہ میٹابولزم کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں چربی گھلنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

بسیار خوری سے بچاﺅ

اگر صبح اچھا ناشتہ کیا ہو تو آپ دن کے وقت بہت زیادہ بھوکے نہیں ہوتے اور دوپہر کے کھانے میں حد سے زیادہ غذا کھانے سے گریز کرتے ہیں۔

جسمانی کارکردگی میں بہتری

ناشتہ جسم کو وٹامنز اور نیوٹریشن فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور آپ جسمانی طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

امراض کا خطرہ کم

ایک صحت بخش ناشتہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دیگر امراض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے (تاہم اگر وہ بہت زیادہ چکنائی پر مشتمل ہو تو)۔

مزاج بہتر بنائے

سننے میں تو عجیب لگے گا مگر صبح کے وقت جو اجزاء جسم کا حصے بنتے ہیں وہ ذہنی طور پر خوشی کا احساس پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

دل کی صحت میں بہتری

صحت بخش ناشتہ بلڈ کولیسٹرول لیول کو بہتر بناتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کولیسٹرول امراض قلب کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے