صدارتی محکمہ اطلاعات کے زیر اہتمام آرمینی دہشت گرد تنظیم کی طرف سے شہید کردہ ترک سفارتکاروں کی یاد میں لگائی گئی ’’ شہید سفارتکار نمائش‘‘ کا افتتاح متحدہ امریکہ کے نیو یارک شہر میں وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کی شراکت سے کل افتتاح ہوا۔
چاوش اولو نے افتتاحی تقریب کے دوران صدارتی محکمہ اطلاعات اور مشیر اطلاعات کی جانب سے لاس اینجلس ، واشنگٹن اور نیو یارک میں منعقد کی جانے والی نمائش پر شکریہ ادا کیا۔
چاوش اولو نے 1973 اور 1984 کے درمیانی عرصے میں آسالہ اور جگاع نامی آرمینی دہشت گرد تنظیموں کے حملوں میں 31 سفارتکاروں سمیت 58 ترک شہریوں کے جام شہادت نوش کرنے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’’ہم شہدا کو اس موقع پر ایک بار پھر یاد کرتے ہیں اور ان کے خون کے رائیگاں نہ جانے کے لیے سر گرم عمل ہیں۔ ‘‘
نمائش کی اہمیت پر زور دینے والے ترک وزیر نے بتایا کہ ’’خاصکر سن 1915 کے واقعات کو سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کیے جانے کا مقصد ہونے والے ایک دور میں امریکی رائے عامہ کو حقائق سے آگاہی کرانے میں اس نمائش نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ سیاسی شہرت کے درپے سیاستدان بھی ان حقائق سے آگاہی حاصل کریں ۔ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کے دعووں کے ساتھ بر سر اقتدار آنے والوں کے حالیہ ایام میں بیانات اور کاروائیوں میں تضاد کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔
جناب چاوش اولو نے سن 1982 میں لاس اینجلس میں ترک قونصلر جنرل کمال آرے قان کے قاتل کو رہا کیے جانے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب انسانی حقوق کا واہ ویلا مچایا جا رہا ہے تو دوسری جانب ایک قاتل کو اس کی سزا پوری ہونے سے پہلے ہی رہا کیا جا رہا ہے۔
