ملائیشیا میں کتّے سے انسانوں میں منتقل ہونے اور نمونیہ کا سبب بننے والے کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔
امریکہ کے متعدی بیماریوں کے جریدے’ کلینک’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ملائیشیا کے صوبے ساراواک میں 2017 سے 2018 کے دوران ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے والے نمونیہ کے301 مریضوں کے ناک سے لئے گئے نمونوں پر تحقیق کی گئی ہے۔
جن مریضوں کی ناک سے نمونے لئے گئے ان میں اکثریتی تعدا 5 سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔ مریضوں میں سے 8 میں کتّوں میں پائے جانے والے کورونا وئرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سائنس دانوں نے وائرس کی اس نئی قسم کو "CCoV-HuPn-2018 ” کا نام دیا ہے۔ اس وائرس کی اس سے قبل بلّیوں اور سوروں میں بھی نشاندہی ہوچکی ہے۔ کتوّں کا کورونا وائرس بلّیوں اور سوروں کے کورونا وائرس سے بالکل مشابہہ خصوصیات کا حامل ہے۔
تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ وائرس کے انسان سے انسان کو منتقل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
انسان سے انسان میں منتقلی ثابت ہونے کی صورت میں یہ تاحال دریافت ہونے والی اور انسان میں بیماری کا سبب بننے والی کورونا وائرس کی 8 ویں قسم ہو گی۔
