English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت: مندر کی سکیورٹی کے نام پر مسلمان خاندانوں کا جبری انخلا؟

اترپردیش(القمرآن لائن)
بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں سخت گیر ہندو نظریاتی موقف رکھنے والے بی جے پی رہنما یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے معروف گورکھ ناتھ مندر کے وسیع و عریض احاطے کے قریب 125 برسوں سے رہائش پذیر مسلمان خاندانوں کو مندر کی سکیورٹی کے نام پر ہٹانے کی کارروائی شروع کی ہے۔
ضلع گورکھ پور کے قلب میں واقع 52 ایکڑ پر پھیلے گورکھ ناتھ مندر اور مٹھ کے مہنتھ یعنی سربراہ خود یوگی آدتیہ ناتھ ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس زمین پر یہ مندر قائم ہے وہ اودھ کے نواب آصف الدولہ نے بطور عطیہ مندر کی تعمیر کے لیے دی تھی۔
القمرآن لائن کے پاس لوگوں کی دستخط شدہ دستاویز موجود ہے۔ جس پر لوگوں کو ڈرا کر دستخط کروائے گئے ہیں۔ مندر کے قریب رہائش پذیر جن 11 مسلمان خاندانوں کو ہٹانے کی جبری کارروائی شروع ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈرا دھمکا کر ان سے ایک کاغذ پر دستخط لیے گئے ہیں جس پر کسی سرکاری محکمے کا نام لکھا تھا نہ سرکاری عہدیدار کا۔
گورکھپور نیوزلائن ویب سائٹ کے مدیر منوج سنگھ کے مطابق دستخط کرنے والے لوگ ڈرے ہوئے اور فکرمند ہیں۔ اکثر لوگ اپنا فون بند کیے ہوئے ہیں یا اٹھا نہیں رہے ہیں۔
دی وائر کے مطابق یہ تنازعہ سب سے پہلے سوشل میڈیا پر 28 مئی کو آیا۔ متاثرین کی رضامندی والے دستخط شدہ خط میں لکھا گیا تھا کہ ہم درج ذیل افراد اپنی زمین اور عمارت کو سرکار کے حق میں منتقل کرنے کے لیے رضامند ہیں۔ ہم لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہم لوگوں کے دستخط نیچے درج ہیں۔اس کاغذ پر11خاندانوں کے 19لوگوں کے نام، ان کی ولدیت اور موبائل نمبر درج ہے۔ آخری کالم میں لوگوں کے دستخط اور تاریخ ہیں۔ اس کاغذ پر دو خاندانوں کے چھ لوگوں اقبال احمد و انور احمدولد مرحوم امدادا لحسن، محمد اکمل، محمدساحل،محمد سرجیل اورمحمداسرائیل کے دستخط نہیں ہیں اور نہ ان کے موبائل نمبر درج ہیں۔ اس کاغذ پر نہ کسی افسر کا نام ہے اور نہ کوئی مہر ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مقیم صحافی مسیح الزماں انصاری انڈیا ٹومارو نامی نیوز پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب میں نے گورکھ پور کے مسلمان خاندان کے مجوزہ جبری انخلا پر ضلع مجسٹریٹ وجیندر پانڈیان کے تاثرات لینے چاہے تو انہوں نے مجھ سمیت اس معاملے پر رپورٹ کرنے والے سبھی صحافیوں کے خلاف سخت دفعات بشمول نیشنل سکیورٹی ایکٹ یا این ایس اے کے تحت مقدمے درج کرنے اور جیل بھیجنے کی بات کہی۔
مسیح الزمان کے مطابق 1998 میں جب یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور کے رکن پارلیمان بنے تب سے وہاں لگاتار عجیب ڈر و خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔
یوگی نے 15 سال پہلے اردو بازار کا نام تبدیل کر کے ہندی بازار کر دیا۔ میاں بازار کو مایا بازار کر دیا۔ اس ڈر و خوف کی وجہ سے مسلمان بہت زیادہ خاموش رہتے ہیں۔ میں نے ڈاکٹر کفیل کا معاملہ اٹھایا تو مجھے تب بھی لگاتار دھمکیاں ملتی رہیں۔
دی وائر کے مطابق اس کے بعد 3 جون کی شام کانگریس کے اقلیتی سیل کے ریاستی صدرشاہنواز عالم نے صحافی اور گورکھپور کے ڈی ایم سے بات چیت کا آڈیو جاری کیا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا،گورکھ ناتھ مٹھ کے جنوب مشرقی کونے پرواقع ایک سو پچیس سالوں سے بسے مسلم خاندانوں سے زمین خالی کرنے کی رضامندی کے سلسلے میں انتظامیہ نے زبردستی دستخط کروائے ہیں
منوج سنگھ کے مطابق گورکھ ناتھ مندر کے آس پاس سیکیورٹی کے کون سے انتظام ہوناہیں اور اس کے لیے کہاں اور کتنی زمین کی ضرورت ہے، اس کے بارے میں انتظامیہ زیادہ کچھ نہیں بتا رہی ۔
گورکھ ناتھ مندر احاطہ52 ایکڑ میں واقع ہے اور سیکیورٹی کے لیے ایک پولیس چوکی اس کے اندر ہے۔ مندر کے مین گیٹ کے پاس سڑک کی مشرقی پٹری پر گورکھ ناتھ تھانہ واقع ہے۔
القمرآن لائن کے مطابق مبینہ خط پر محمدفیضان و محمد عمران، محمد سلمان ولدمرحوم فضل الرحمن، محمد زاہد، محمدطارق و محمد عاشق ولدمرحوم ساجد حسین،محمد شاہد حسین،محمد شاہر حسین، خورشید عالم، محمد جمشید عالم ولد مرحوم عبدالرحمن، مشیر احمدولدمرحوم ناظر احمد، نور محمدولدمرحوم دین محمد کے دستخط ہیں۔
ان میں سے ایک45سالہ نور محمد اپنے پانچ بھائیوں کی فیملی کے ساتھ 2200اسکوائر فٹ والے مکان میں رہتے ہیں۔ اس میں ان کی ٹی وی مرمت کرنے کی دکان بھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں،دو تین دن لگاتار اکاونٹنٹ اورقانون گو آئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات سے آپ لوگوں کا مکان لیا جانا ہے۔ گھر کے بدلے سرکل ریٹ سے دو گنا معاوضہ دیں گے۔ جس کاغذ پر میں نے دستخط کیا وہ سادہ کاغذ تھا۔ وہ کوئی لیٹر پیڈ نہ تھا۔ اس پر کسی افسر کا نام یا مہر نہیں تھا۔نور محمد کا کہنا ہے،ہم لوگوں کی روزی روٹی اسی گھر سے چلتی ہے۔ میرے دادا کے دادایہاں رہے ہیں۔ اسے چھوڑکر ہم کہاں جائیں گے۔ سرکار معاوضہ تو دے سکتی ہے لیکن روزی روٹی کیسے ملے گی؟
مبینہ دستاویز پردستخط کرنے والے ریٹائرڈ ریلویاسٹاف71سالہ جاوید اختر کہتے ہیں کہ انہوں نے دبا ومیں دستخط کئے۔ انہیں ایک طرح سے دھمکی دی گئی۔ گھر آئے اکاونٹنٹ-قانون گو نے کہا کہ آپ دستخط نہیں کریں گے تو ہمیں دوسرا راستہ آتا ہے۔
دستخط کرنے والوں میں سے ایک70سالہ مشیر احمد بنکر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، پولیس کے ساتھ آئے اکاونٹنٹ اورقانون گو نے ہمارے گھر اور آس پاس کے گھروں کی پیمائش کی۔ دوسرے دن پھر وہی لوگ آئے اور کہا کہ سیکیورٹی وجوہات سے یہاں پر کام ہونا ہے۔ اس کے لیے دستخط کر دیجیے۔ میں نے دستخط کر دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ میرے گھر کو اس کام کے لیے لے لیا جائیگا۔ اس کے بعد سے گھر کے لوگ رو رہے ہیں۔دی وائر کے مطابق انتظار حسین اپنے بڑے بھائی فیروزکی فیملی کے ساتھ 2100مربع فٹ کے اس گھر میں رہتے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی گھر میں دکان چلاتے ہیں، جس سے ان کا روزگار چلتا ہے۔ انتظار نے بتایا کہ سرکاراورانتظامیہ کے ذریعے گھر کو لیے جانے کی جانکاری ہونے کے بعد ان کی بھابھی بیمار پڑ گئی ہیں۔انتظار حسین نے بتایا،ہمارا گھر مندر کے جنوب مغربی سمت میں ہے۔ ہمیں پتہ چلا کہ جنوب مشرقی سمت میں11 گھروں کو سرکار لے رہی ہے۔ میں جاکر سب سے ملا اور جاننے کی کوشش کی کہ آخر ہمارے گھر زمین کی سرکار کیوں لینا چاہتی ہے لیکن کوئی صاف جواب نہیں ملا۔ جن لوگوں نے دستخط کر دئے ، وہ اب پچھتا رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنا گھر نہیں دینا چاہتے۔
گورکھ ناتھ مندر کے آس پاس کے کئی محلے نورنگ آباد، زاہدآباد، پرانا گورکھپور، ہمایوں پور، رسول پر بنکر اکثریتی ہیں جن کی آبادی تقریبا ایک لاکھ ہے۔ بنکروں کی حالت اس وقت بہت خراب ہے۔گورکھپور میں1990تک 17ہزار سے زیادہ ہتھ کرگھے تھے لیکن اب بہ مشکل 150 سے بھی کم ہتھ کرگھے بچے ہیں۔سال 1990کے بعد سے بنکروں نے پاورلوم پر کام شروع کیا۔ گورکھپور میں ساڑھے آٹھ ہزار پاورلوم لگے لیکن اب ان کی تعداد کم ہوتے ہوتے تین ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ضلع مجسٹریٹ گورکھ پور وجیندر پانڈیان نے بھارتی نیوز پورٹل دا کیونٹ سے گفتگو میں دعوی کیا ہے کہ کسی سے بھی زبردستی راضی نامے پر دستخط نہیں لیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کو اپنی زمین اور مکانوں کے عوض کروڑوں روپے ملنے والے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے