English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

97 سابق بیوروکریٹس نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر لکش دیپ کے معاملے پرتشویش کا اظہا رکیا

'Alien and Arbitrary Policies': Ex-Civil Servants Write to PM Modi on Lakshadweep

نئی دہلی: سابق بیوروکریٹس کے ایک گروپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کریونین ٹریٹری لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے من مانے اور یک طرفہ فیصلوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم سے ایک ایسامناسب ترقیاتی ماڈل یقینی بنانے کی اپیل کی، جس کے لیے یہاں رہنے والے لوگوں سے رائے لی جائے اور اس ماڈل میں سلامتی ، بہتر طبی سہولیات،تعلیم اور گڈ گورننس سمیت دیگر چیزیں شامل ہوں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے نقشے میں لکش دیپ ایک الگ مقام رکھتا ہے اور یہ ثقافتی تنوعات سے مالا مال ہے۔اس خط میں ان تین ریگولیشن کے مسودے پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس پر ابھی تنازعہ چل رہا ہے۔
اس مسودے کو دسمبر، 2020 میں لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر کا اضافی عہدہ سنبھالنے کے بعد پرفل کھوڑا پٹیل نے پیش کیا ہے۔ پٹیل دادرا و ناگر حویلی، دمن دیو کے بھی ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ملک کے 97سابق بیوروکریٹس نے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کے تین نئے مسودہ کو پوری طرح سے غلط بتاتے ہوئے خط میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ دستخط کرنے والے اس طرح کے نتیجے پر کیوں پہنچے ہیں۔
خط میں لکش دیپ کی حیرت انگیزآبادیاتی اور وہاں کی ماحولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ پٹیل کے قانون میں لکش دیپ کے 36جزیروں میں ترقی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پریشان کن ہے۔جزیرے کے دو گروپوں کے بیچ سائز کی عدم یکسانیت پر کم توجہ دینے کے ساتھ مالدیپ کی طرح سیاحتی ماڈل کونافذ کرنے کی کوشش سے لیکر بچوں کے مڈ ڈے میل میں گوشت خوری پر اچانک پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ وہ بھی ایک ایسے جزیرے پر جہاں پھل اور سبزیاں سمندر سے دور شہروں سے لائے جانے کی وجہ سے تازہ نہیں ملتے۔خط میں پٹیل کے ا قدامات کو ایک ایک کر اجاگر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح وہ وہاں کی زندگی کے قدرتی طریقوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔خط میں کہا گیا،ایسا لگتا ہے کہ ترقی کو ہدف بناکر اٹھائے گئے ان اقدامات سے عجیب و غریب اور استحصالی ماڈل کے لیے مقامی آبادی کو ان کی زمینوں اور ذریعہ معاش سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔
خط میں اپیل کی گئی ہے کہ مودی کی توجہ لکش دیپ کو ایک حساس ایڈمنسٹریٹردستیاب کرانے کے لیے وقف ہونی چاہیے، جو روایتی طور پر وہاں رہنے والی کمیونٹی کے متاثرکن اور نقل مکانی کرنے کے لیے خطرہ نہ بنے۔یہ خط مودی حکومت کی جانب سے سینٹرل سول سروس(پنشن)ضابطہ1972 میں ترمیم کو نوٹیفائی کرنے کے کچھ دنوں بعد آیا ہے، جس میں سبکدوش سیکیورٹی اور خفیہ افسروں کو میڈیا سے مکالمہ کرنے یا تنظیموں کے ڈومین کے تحت آنے والے موضوعات پر کوئی خط یاکتاب یا دیگر دستاویز شائع کرنے پرپابندی لگا دی گئی ہے۔
اس خط کی کاپی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر ماحولیات پرکاش جاویڈکر کو بھی بھیجی گئی ہے۔اس خط پر قومی سلامتی کے سابق مشیرشیوشنکر مینن، پرسار بھارتی کے سابق سی ای او جواہر سرکار،سابق خارجہ سکریٹری سجاتا سنگھ، وزیر اعظم کے سابق صلاح کار ٹی کے اے نائر، ہرش مندر، جولیو ربیرو، ارونا رائے سمیت97 لوگوں کے دستخط ہیں۔مسلم اکثریتی لکش دیپ حال ہی میں کئے گئے کچھ انتظامات کے حوالے سے تنازعہ میں ہے۔ وہاں کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہاہ ہے ۔پچھلے سال دسمبر میں لکش دیپ کا چارج ملنے کے بعد پرفل کھوڑا پٹیل لکش دیپ اینیمل پروٹیکشن ریگولیشن، لکش دیپ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیشن پروینشن ریگولیشن، لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن اور لکش دیپ پنچایت سے متعلق ضابطوں میں ترمیم کے مسودے لائے ہیں، جس کی تمام اپوزیشن پارٹیاں مخالفت کر رہی ہیں۔انہوں نے پٹیل پر مسلم اکثریتی لکش دیپ سے شراب نوشی سے پابندی ہٹانے، جانوروں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے بیف پر پابندی لگانے اورکوسٹ گارڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کی بنیاد پرساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کے جھونپڑوں کو توڑنے کاالزام لگایا ہے۔ان قوانین میں انتہائی کم جرائم والے اس یونین ٹریٹری میں اینٹی غنڈہ ایکٹ اور دو سے زیادہ بچے والوں کو پنچایت انتخاب لڑنے سے روکنے کا بھی اہتمام بھی شامل ہے۔
اس سے پہلے لکش دیپ کے ساتھ بیحد مضبوط سماجی اورثقافتی رشتہ رکھنے والے کیرل کے وزیر اعلی کے ساتھ لیفٹ پارٹیوں اور کانگریس کیرکن پارلیامنٹ نے صدر رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس سلسلے میں خط بھی لکھا تھا۔کیرل اسمبلی نے لکش دیپ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے 24 مئی کومتفقہ طور پر ایک تجویزپاس کی، جس میں ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کو واپس بلائے جانے کی اپیل کی گئی اور مرکز سے فورا دخل اندازی کرنے کی اپیل کی گئی تھی تاکہ لکش دیپ کے لوگوں کی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کی حفاظت ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے