نویں محرم الحرام اور یوم عاشور پر شہر بھر کے گلی محلوں اور پکوان سنٹروں پر لنگر کی تیاری کا کام عروج پر ہے جبکہ بچے ،بوڑھے اور نوجوان لنگر بانٹنے اور کھانے میں مشغول ہیں، جگہ جگہ شہدائے کربلا کی پیاس سے منسوب پانی، شربت اور دودھ کی سبیلوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔
محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نذر و نیاز کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ میں امام حسینؓ اور انکے رفقاء کی عقیدت و احترام میں مرکزی امام بارگاہ کا رخ کرنے والے عزاداروں کے لیے لنگر کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے ۔
محرم الحرام کے مہینے میں نذرونیاز کا سلسلہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اس ماہ حلیم اور شربت کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔
نذر و نیاز میں سب سے زیادہ حلیم اور شربت کا استعمال ہوتا ہے، حلیم کی تیاری میں چونکہ زیادہ وقت لگتا ہے اس لئے عموماًیہ رات میں تیار کی جاتی ہے جہاں ایک جانب نذرو نیا کے لئے حلیم بنائی جاتی ہے، وہیں نوجوان اپنے دوستوں اور احباب کے ساتھ مل کرحلیم تیار کرتے ہیں۔
مختلف دالوں، گندم اور جو ملا کر بنائی جانے والی حلیم، پاکستان اور ہندوستان کے عوام میں بہت مقبول ہے اور محرم کے مہینے میں خاص طور پر عزاداروں کو تبرک کے طور پر کھلائی جاتی ہے۔
محرم الحرام میں شربت کا استعمال بھی بہت بڑھ جاتا ہے اور کربلا کے پیاسے بچوں کی یاد میں پلایا جانے والا شربت انتہائی اہتمام سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ پانی کے علاوہ دودھ اور بہت سے پھلوں کے رس سے تیار ہونے والے شربت میں مختلف میوے اور خوشبو بھی شامل کی جاتی ہے۔
محرم الحرام میں ملک بھر میں سبیل بنائی جاتی ہیں، جہاں سات محرم کے بعد خاص طور پر شربت پلایا جاتا ہے، جلوسوں میں بھی دودھ اور شربت کی سبیلیں موجود ہوتی ہیں جبکہ نذرو نیاز کے اس سلسلے کے باعث پکوان بنانے والے والے کسی بھی تقریب کے کھانے کے آرڈر نہیں لیتے اور صرف نذرو نیاز کی تیاری میں ہی مصروف رہتے ہیں۔

