افغان دارالحکومت کابل میں خواتین کے ایک گروہ نے ملک میں طالبان کے کنٹرول کے بعد قائم کی جانے والی نئی حکومت میں خواتین کو بھی جگہ دیے جانے سمیت حقوق وآزادی کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کابل کے پل محمد خان چوک کے جوار میں یکجا ہونے والی خواتین نے یہ نعرے لگائے’’ہماری نوکریاں بحال کریں‘‘، ’’واحد جنسیت کی حامل حکومت ناقابلِ قبول‘‘، ’’طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں‘‘، ’’اے طالبان حقوقِ نسواں کے بغیر آپ کو سرکاری حیثیت نہیں مل سکتی‘‘، ’’ہم بہادر اور اٹل ہیں‘‘، ’’بین الاقوامی برادی تم کہاں ہو‘‘۔
خواتین نے پریس کو بیانات دینے کے بعد جلوس نکالا، تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر واقع وزارت ِ دفاع تک پیدل مارچ کرنے والی خواتین نے قتل کی جانے والی خواتین کی یاد میں وزارت کی عمارت کے سامنے پھول رکھے اور قرآن خوانی کی۔
اس مظاہرے میں خاتون ایکٹیوسٹ نوریے افغان نے تمام تر افغان خواتین کو بہادر بننے کی اپیل کی۔
ملک میں حقوقِ نسواں کے معاملے میں غیر یقینی کی صورتحال پائے جانے کا ذکر کرنے والی نوریے نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ معروف طالبان شخصیات نے کابینہ میں خواتین کو جگہ نہ دینے کے بیانات دیے ہیں۔
مظاہرے میں شریک روشن رضائی نے خواتین کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہم آج یہاں پر تمام تر افغان خواتین کے حق وآزادی کے لیے یہاں جمع ہیں۔
بعدا زاں شہری مرکز کی جانب جلوس نکالنے والی خواتین کو طالبان قوتوں نے منتشر ہونے کا کہا، اس حکم کی تعمیل نہ کرنے پر طالبان قوتوں نے آنسو گیس پھینکی اور ہوائی فائرنگ کی۔ بعض خواتین اور اخباری نمائندوں کو زود و کوب کیا گیا۔ طالبان کی مداخلت کے باعث مظاہرین نے اپنی کاروائی کو نکتہ پذیر کر دیا۔
