وفاقی حکومت نے ایک بار پھر کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انیس سوباسٹھ میں شروع ہونے والی کراچی سرکلر ریلوے انیس سوننانوے تک فعال رہا۔ پھر 42 کلو
میٹر کا ٹریک اور 26 اسٹیشن ویران کر دیے گئے۔
کے سی آر کا روٹ سٹی اسٹیشن سے شروع ہوتا ہے ۔ ٹاور ،لیاری ، بلدیہ ٹاؤن، سائیٹ ، ناظم آباد ، لیاقت
آباد، گلشن اقبال ، نیپا کے علاقوں سے ہوتا ہوا یہ ٹریک نیپا اور گلستان جوہر کے علاقے سے گزرتا ہوا
سی او ڈی کے پاس ملیر لائن سے جا ملتا ہے۔
شارع فیصل سے کینٹ اسٹیشن سے ہوتا ہوا دوبارہ سٹی اسٹیشن پہنچ جاتا ہے۔ سرکلر ریلوے کا دوسرا
روٹ سٹی اسٹیشن سے دھابھیجی تک جاتا ہے۔
دو ہزار پندرہ میں ہونے والے سروے کے مطابق 42 کلومیٹر طویل ٹریک کےاطراف گزشتہ بیس سالوں کے
دوران زمین پر 900 سے زائد کثیر منزلہ عمارتیں اور تین ہزار سے زائد مکانات بنائے جا چکے ہیں جن میں
تقریبا پندرہ ہزار سے زائدخاندان آبادہیں۔
وفاقی حکومت کےمطابق منصوبے کے ابتدائی تخمینہ 207 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ الیکٹرک ٹرین
کے لئے
نئی پٹری بچھائی جائے گی اور نئے فلائی اورز اور انڈرپاسز بھی بنائے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم عمران خان آج جدید سرکلر ریلوے کا سنگِ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے پبلک
ٹراسپورٹ کو جدت دینے کے ویژن کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کو نہ صرف بحال کیا
جا رہا ہے۔.
جدید سرکلر ریلوے کے 30 اسٹیشنز رہائشی، صنعتی اور دفتری علاقوں کو ملائیں گے جس سے کراچی
میں ٹریفک کا بہاؤ کم ہوگا اور شہریوں کو بہتر سہولت میسر آئے گی۔.
207 ارب کی مجموعی لاگت سے مکمل ہونے والے جدید کراچی سرکلر ریلوے منصوبے میں بجلی سے
چلنے والی ٹرینیں شامل کی جائیں گی جس سے آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
