ایم کیو ایم پاکستان میں آپس کے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں پارٹی کی قیادت کس کے پاس
ہونی چاہیے مضبوط گروپوں نے کوششیں تیز کر دی ہیں.
ایسی ہی کوشش اچانک انٹرا پارٹی الیکشن کراکے پارٹی پر قبضہ کی کوشش کی گئی جسے کارکنوں
نے مسترد کر دیا ہے.
ایم کیو ایم پاکستان نے ایک انوکھے طریقہ سے اچانک انٹرا پارٹی الیکشن کروا دئیے اور موجودہ
قیادت کو پھر سے منتخب کرانے کی سازش کی گئی.
اس امر پر پہلے تو اندر ہی اندر بات چیت چلتی رہی اور میڈیا میں لائے بغیر مسئلہ حل کرنے پر زور
دیا گیا لیکن بات آگے نہ بڑھنے پر الیکشن کے خلاف کراچی بھر میں راتوں رات بینر لگا دیے.
انٹرا پارٹی الیکشن نا منظور کے بینر جگہ جگہ شہر میں دیکھائی دے رہے ہیں. ایم کیو ایم ذرائع کا
کہنا ہے کہ کارکنوں کو لیاقت علی خان کی برسی کا پیغام دے کر بہادرآباد مرکز بلوایا گیا.
لیاقت علی خان کی برسی کی دعا کہ بعد جب کارکن جانے لگے تو انہیں کمروں میں بھیج دیا گیا
کہ جاتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے جائیں.
اچانک الیکشن اور ووٹ کا سن کر کارکن پریشان ہو گئے اور بعض افراد بغیر ووٹ ڈالے چلے گئے.
صورت زیادہ بگڑنے پر انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان روک لیا گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت جلد بعض ناراض افراد ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ قیادت کے خلاف
عدالت میں درخواست بھی دے سککتے ہیں۔
