واشنگٹن (آن لائن) طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے اعلیٰ امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد نے الزام لگایا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی بے حسی، افغان اشرافیہ کی مطلب پرستی اور افغان فوجیوں کی جانب سے طالبان سے لڑنے کے عزم میں کوتاہی ایسے اسباب تھے جن کی بنا پر اگست میں طالبان کو موقع ملا کہ وہ تیزی کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے ملک پر قبضہ جما لیں۔خلیل زاد نے واشنگٹن میں ’’کارنیگی انڈومینٹ فار انٹرنیشنل پیس‘‘ کے تحت منعقدہ ایک مباحثے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب حیران تھے کہ صدر غنی اس بات پر اڑے رہے کہ عہدے کی مدت پوری ہونے تک وہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے دوبارہ منتخب ہوئے تھے جس میں چند افغانوں نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ 3 لاکھ سے زاید افغان افواج اور قومی پولیس محض 60سے70ہزار تعداد رکھنے والے طالبان کے سامنے کھڑی نہ ہو سکیں‘ اس کی وجہ کم ہمتی، بدعنوانی اور اگلے محاذ پر تعینات فوجیوں کے ساتھ غلط سلوک روا رکھنا تھا۔
