اکراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈاکٹر عافیہ کی بہن اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ جنگ ختم چکی ہے، اب عافیہ کو رہا کیا جائے، امریکا اپنی شکست تسلیم کرچکا ہے اور جنگ کے دوران حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کر رہا ہے، کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو امریکی حراست سے چھڑالیا ہے اور جنگ کے متاثرہ قیدیوں کی رہا ئی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے مگر ہماری قیادت مکمل طور پر غفلت میں ڈوبی ہوئی ہے، اس میں پاکستانی شہریوں کو تحفظ اور سلامتی دینے کا جذبہ نظر نہیں آتا۔ یہ بات انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلیے جاری بین الاقوامی جدوجہد کے سلسلے میں 3 تلوار پر منعقد کی گئی ’’عافیہ رہائی دستخط مہم‘‘ کے موقع پر شرکاء اور میڈیا کے نمائندوںسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرایک بہت بڑے سائز کی “سگنیچر اسکرین پر مختلف سیاسی، دینی، سماجی شخصیات، خواتین اور انسانی حقوق کی جماعتوں کے رہنماؤں و کارکنوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات، عافیہ موومنٹ کے سپورٹرز اور شہریوں نے چند گھنٹوں میں ہزاروں کی تعداد میںدستخط کیے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ کہا کہ ڈاکٹر عافیہ بھی اسی جنگ کی متاثرہ ہے، عافیہ نے نومبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان کو پاکستانی قونصلیٹ کے توسط سے خط لکھ کر رہا کرانے کی اپیل کی تھی۔ حکومت اگر ان 3 سال کے دوران سنجیدگی سے کوشش کرتی تو عافیہ آج اپنی ماں، بچوں اور اہلخانہ کے درمیان موجود ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی واپسی میں رکاوٹ ہماری قیادت میں غیرت کا فقدان اور یہ کرپٹ نظام ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ’’عافیہ رہائی دستخط مہم‘‘ میں شرکت کرنے پر تمام جماعتوں کے قائدین ، ڈاکٹر عافیہ کے سپورٹرز اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ عافیہ کی وطن واپسی تک ’’کاروان غیرت‘‘ کا سفر جاری رہے گا۔
