خیبر ایجنسی (آن لائن) پشاور پولیس کا قادیانی پولیس انسپکٹر قادیانیت کو سپورٹ نہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے لگا۔ معلوم ہوا ہے کہ تھانہ شرقی پشاور میں تعینات قادیانی ملک احمد نامی ایک انوسٹی گیشن انسپکٹر کو قادیانی ہونے کی وجہ سے کسی مرغن تھانے پر تعینات نہیں کیا جا رہا جس کے غصے کی وجہ سے وہ آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری اور سی سی پی او کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے پولیس میں کرپشن ہورہی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اِنٹی پولیس مافیا کا ایک گروپ ملک احمد کے ساتھ رابطے میں ہے جس کو خبریں پھیلانے پر انعام سے بھی نوازا جاتا ہے، ملک احمد کے ساتھ اس کے گینگ کے کئی ادنیٰ پولیس افسران بھی شامل ہیں جو سامنے نہیں آتے۔ پولیس ذرائع کے مطابق قادیانی انسپکٹر ملک احمد کو اب تک اہم عہدوں پر تعینات کروانے میں جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد طاہر خان کی مکمل سپورٹ رہی ہے۔ ملک احمد آئے روز خفیہ واٹس ایپ نمبروں سے میڈیا والوں کو میسج کرکے پولیس کی خفیہ انفارمیشن بھی لیک کر رہا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ خفیہ معلوماتدوسروں تک پہنچانے کیلیے ملک احمد بدنام ہے اور اگر ایسے ناسور کو فوری طور پر ضلع بدر کرکے کھڈے لائن نہ لگایا گیا تو یہ پولیس کی جڑوں کو کھوکھلا کردے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک احمد نے خود کو قادیانی ظاہر کرکے کینیڈین امیگریشن میں اپنی کینیڈا میں آبادکاری کا کیس بھی جمع کروایا ہوا ہے تاکہ وہ کینیڈا جانے میں کامیاب ہو جائے۔ اس سلسلے میں جب ملک احمد سے ان کا مئوقف جاننے کے لیے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے اس پر بات کرنیدینے سے انکار کردیا۔
