
ادیس ابابا (انٹرنیشنل ڈیسک) ایتھوپیا میں تیگرائے باغی جنگجو دارالحکومت ادیس ابابا سے صرف 25کلومیٹر کی دوری پر رہ گئے۔ باغی جنگجوؤں کا دعویٰ ہے کہ ایتھوپیا کی فوج ہتھیار ڈال کر ان کے ساتھ مل رہی ہے۔ باغی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹے میں ایک ہزار165 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے، جن میں سے 400 اہلکار باغیوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ ادھر بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ادیس ابابا کے اطراف میں باغیوں کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے ملک بھر میں 6ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے۔ پارلیمان کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری کے باعث 6ماہ کے دوران وزیر اعظم کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہوںگے۔ 18 برس سے زائد عمر کے شہریوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے ایتھوپیا سے اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا ہے، جبکہ دیگر ممالک کے سفارتکار اور شہری بھی بڑی تعداد میں ادیس ابابا چھوڑ رہے ہیں۔افریقی اور مغربی ممالک نے اپنے بیانات میں ایتھوپیا میں فوراً جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ امریکا نے مذاکرات پر زور دینے کے لیے اپنا ایلچی روانہ کردیا ہے۔
