اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف قانون دان اعتزاز احسن سے سینئر صحافی نے سوال کیا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک خط نہیں لکھا تھا جو سپریم کورٹ بار بار کہہ رہی تھی اور جب وہ عدالت میں گئے تو انہوں نے سزا دے دی،کیا وزیراعظم سے مطمئن نہ ہونے پر عدالت کوئی فیصلہ کر سکتی ہے جس کا جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت کوئی ڈائریکشن دینا چاہے تو دے سکتی ہے لیکن کسی بھی وزیراعظم کو سزا نہیں مل سکتی کہ انہوں نے ایک طلبی پر سپریم کورٹ کو مطمئن نہیں کیا یا سپریم کورٹ کی رائے مختلف تھی۔سپریم کورٹ کے جج بھی ہماری طرح
انسان ہیں ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔سپریم کورٹ کو اس لیے فائنل کورٹ نہیں کہا جاتا کہ وہ درست ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی بڑی عدالت نہیں ہے ،اس لیے وہ کوئی سزا نہیں دے سکتے۔اگر وزیراعظم عدالت میں بتاتے ہیں کہ اس صورتحال میں ہم مذاکرات کر رہے ہیں تو اس پر انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کیے جانے پر کہا کہ وزیراعظم کو بلانے سے ججز کی ٹاٹھ باٹھ بڑھ جاتی ہے۔ماضی میں یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف کو بھی طلب کیا گیا۔ان کی انا میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ ہم طلب کر سکتے ہیں۔میرے خیال سے وزیراعظم کو بلانے کا کوئی مقصد نہیں تھااور نہ ہی وزیراعظم ایف آئی آر میں نامزد تھے۔سانحہ اے پی ایس کیس سے وزیراعظم عمران خان کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔جب سانحہ پیش آیا تو اس وقت کے ذمہ داران سے سوال ہونا چاہیے۔۔واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو طلب کیا تھا۔بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کیس کی سماعت کی۔
