بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی قیادت میں غیرملکی افواج نے عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا ۔ اب ملک میں موجود غیرملکی فوجی تربیتی مشن انجام دیں گے اور مشاورت فراہم کریں گے۔ عراق میں قومی سلامتی کے مشیرقاسم عراجی نے جمعرات کے روز ٹویٹر پراطلاع دی ہے کہ جنگی مشن مقررہ وقت سال کے اختتام سے قبل ہی ختم کردیا گیا ہے اوراب لڑاکا فوجیوں کا عراق سے انخلا ہوجائے گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور عراقی وزیراعظم مصطفی کاظمی نے جولائی میں عراق میں امریکا کے لڑاکا مشن کو 2021 ء کے آخرتک باضابطہ طور پر ختم کرنے کے معاہدے پر مہرتصدیق کی ثبت کردی تھی۔ امریکا نے عراق میں 2020 ء کے بعد سے 2500 فوجی تعینات رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مقررہ تاریخ سے قبل انخلا کا فیصلہ حیران کن ہے۔ عراق میں داعش کے خاتمے کے بغیر واپسی عسکری اتحاد کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب مغربی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں تعینات غیر ملکی فوجی کچھ عرصے سے صرف میزبان ملک کی سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے اورمشاورت کا کردارادا کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں فوجی مشن نے گزشتہ برسوں کے دوران میں داعش کی باقیات کا مقابلہ کرنے پرتوجہ مرکوز کررکھی ہے۔ داعش نے 2014 ء میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔ امریکا نے اس دہشت پسند گروہ کے خلاف فوجی مہم کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا تھا اوراس کے تحت 2015ء میں عراق میں اپنے ایک نئے جنگی مشن کاآغازکیا تھا۔اس بین الاقوامی اتحاد،عراق کی سیکورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ایران نواز ملیشیاؤں نے داعش کو شکست سے دوچار کیا تھا اور اس کے زیرقبضہ علاقے واگزار کرالیے تھے۔
