نوما (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی بحرالکاہل میں جزائر پر مشتمل خطے نیو کیلیڈونیا کی آزادی یا بدستور فرانس کے زیر انتظام رہنے سے متعلق ایک ریفرنڈم میں بھاری اکثریت نے فرانس کے زیر انتظام رہنے کے حق میں رائے دی ہے۔ آزادی کے حامیوں نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس ریفرنڈم میں 96.5 فیصد ووٹ آزادی کی مخالفت میں، جبکہ 3.5 فیصد آزادی کی حمایت میں آئے۔فرانس کے صدر عمانویل ماکروں نے ٹی وی پر نشرکردہ ایک خطاب میں نتائج کا خیرمقدم کیا۔دوسری جانب آزادی پسند رہنما ریفرنڈم کے نتائج قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ نیو کیلیڈونیا جزائر پر مشتمل ایک سلسلہ ہے جس کی آبادی تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار ہے۔ اس علاقے کے قدیم کناک باشندے اور دیگر میں آزادی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔یہ علاقہ دنیا بھر میں نکل کی بہت زیادہ پیداوار والے علاقوں میں شامل ہے۔ یہ دھات برقی گاڑیوں اور دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ریفرنڈم نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی کیوں کہ چین بحرالکاہل کے جزائر کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزادی کے حق میں نتیجہ آنے کی صورت میں، چین کے لیے اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کا ایک راستہ کھل سکتا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2020ء میں بھی کیلنڈونیا کے عوام نے خودمختاری سے متعلق ایک ریفرنڈم کے دوران فرانس کے ماتحت رہنے اور آزاد نہ ہونے کو قبول کرلیا تھا۔
The post کیلیڈونیا کے عوام نے ریفرنڈم میں فرانس کی غلامی کو گلے لگا لیا first appeared on Daily Jasarat News.
