English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

و�اقی کابین� کا آئند� انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے   کرانے کے عزم کا اظ�ار  

اسلام  آباد:  وفاقی  کابینہ نے  آئندہ انتخابات  الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے منعقد کرانے کے عزم کا اظہار  کیا ہے ،کابینہ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 122 میں ترامیم کرنے کی اصولی منظوری دیدی ، وزارت خزانہ کی سفارش پر بیرونی تجارتی قرضوں کی ایکس پوسٹ فیکٹومنظوری بھی  دیدی گئی   ۔     سندھ میں اشیاء  ضروریہ بشمول آٹا، چینی، دودھ، گھی  اور دالوں کی زیادہ قیمتوں پر تشویش کا اظہار  کیا گیا ہے ،کابینہ کا کہنا ہے ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کا مستقل ہونے کے لیے کوئی قانونی حق  نہیں ہے   ۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو  وفاقی کابینہ کا    اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق کابینہ کو  ای وی ایم متعارف کرانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  شبلی فراز نے بریفنگ میں بتایا کہ   حکومتی کمیٹی  آج الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات کرے گی۔ انہوں نے  الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ملک کے تمام پولنگ اسٹیشنز تک ترسیل و استعمال اور عملہ کی ٹریننگ کے حوالے سے شیڈیول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی  کابینہ نے  الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے قوانین لاگو ہونے بعد آئندہ انتخابات  الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے منعقد کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔کابینہ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 122 میں ترامیم کرنے کی اصولی منظوری دی۔ ترامیم کامسودہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانون کے سامنے پیش ہوگا۔مشیر خزانہ نے وفاقی کابینہ کو اشیاء  ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔15 اشیاء  کی قیمتوں میں کمی، 19 اشیاء  کی قیمتوں میں استحکام رہا۔مشیر خزانہ نے  بریفنگ میں  بتایا کہ  خطے میں صرف چائے کی پتی کی قیمتوں کے علاوہ  دیگر تمام گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتیں پاکستان میں کم ہیں۔  ان اشیاء  میں آٹا، گھی،  چنے، دال ماش، دال مونگ، ٹماٹر، پیاز، چکن اور پیٹرول شامل ہیں۔  کابینہ  میں  سندھ میں اشیاء  ضروریہ بشمول آٹا، چینی، دودھ، گھی  اور دالوں کی زیادہ قیمتوں پر تشویش کا اظہار  کیا گیا ۔ کابینہ نے عدالتی فیصلوں کی روشنی اور اسٹیلشمنٹ ڈویڑن کی سفارش پر قرار دیا  کہ ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کا مستقل ہونے کے لیے کوئی قانونی حق  نہیں ہے۔  کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر بیرونی تجارتی قرضوں کی ایکس پوسٹ فیکٹو     منظوری دی ۔ ان کے سود پر ٹیکس سے استثنیٰ کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ قرضے  دسمبر 2020   تا نومبر 2021  کے دوران حاصل کیئے گئے جن کا کل حجم  3.98 ڈالر ہے،  موجودہ حکومت کے دور میں برامدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے