اسلام آباد(صباح نیوز)حکومت نے منی بجٹ بھی پارلیمنٹ کے بجائے آرڈیننس کے ذریعے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکام وزارت خزانہ کے مطابق منی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری طویل وقت لے سکتی ہے اس لیے پارلیمنٹ سے فوری منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس بلاناممکن ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط پر 360ارب سے زائد کا منی بجٹ بڑا چیلنج ہے اور اس حوالے سے حکومت نے ایک بار پھر آئی ایم ایف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔آئی ایم ایف منی بجٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے پر بضد ہے اور 12جنوری تک منی بجٹ پر عملدرآمد کی شرط عاید کی ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی کی ضرورت ہے مزید ایک ارب ڈالرکے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرناہوں گی۔
