پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)گورنر خیبر پختونخوا اور ان کے عملے کے خرچے میں 5 کروڑ روپے سے زائد کا اضافے کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مالی سال 2021-22 کی دستاویزات کے مطابق پچھلے سال گورنر ہاؤس خیبرپختون خوا کا بجٹ 25 کروڑ 40 لاکھ روپے تھا، تاہم گورنر کے پی نے گزشتہ سال 25 کروڑ 75 لاکھ روپے زاید خرچ کیے۔ دستاویزات کے مطابق گورنر کے پی نے اپنے صوابدیدی فنڈ سے بھی ایک کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے، اس مالی سال کے لیے گورنر ہاؤس کے خرچے کے لیے 30 کروڑ روپے سے زاید منظور کیے گئے ہیں جس میں 5 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔دستاویزات کے مطابق گورنر ہاؤس کے (یوٹیلیٹی بلز) بجلی، گیس اور ٹیلی فون پر خرچہ تقریباً 4 کروڑ سے بڑھ گیا ہے جبکہ گورنر خیبرپختون خوا کے سفری اخراجات میں پیٹرول اور ہوائی سفر پر گزشتہ سال تقریباً 60 لاکھ روپے کا خرچہ آیا تھا جو بجٹ سے 15 لاکھ روپے زاید تھا، جب کہ اس سال بھی گورنر ہاؤس کو تیل اور ہوائی جہاز کے لئے مزید 60 لاکھ روپے منظورکیے گئے ہیں، گورنر کے عملے نے سفری اخراجات پر 90 لاکھ روپے خرچ کیے۔ اس کے علاوہ گورنر خیبرپختون خوا نے گزشتہ سال اپنی تفریح اور تحائف پر ایک کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے، اور اس سال بھی ان کا اتنا ہی خرچ کرنے کا ارادہ ہے۔دستاویزات کے مطابق اس سال گورنر ہاؤس کے ملازمین کے الاؤنسز کے لیے اعداد وشمار کے بغیر (لم سم) 4 کروڑ روپے کی رقم گورنر ہاؤس کے بجٹ میں مختص کی گئی ہے، ملازمین کو پہلے سے ملنے والے دو درجن الاؤنسز اس کے علاوہ ہیں، جب کہ گزشتہ سال ملازمین کی گاڑیوں کی مرمت پر 30 لاکھ روپے سے زاید خرچہ ہوا۔دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غریب ملک کے متوسط صوبے خیبرپختون کے گورنر ہاؤس کے ملازمین کی تعداد 265 سے زائد ہے، جن میں سے صرف 22 کے قریب نئے مالی بھرتی کیے گئے ہیں، پہلے گورنر ہاؤس میں 8 مالی کام کرتے تھے اور اب ان کی تعداد 30 ہو گئی ہے، گورنر خیبرپختون خوا کے ذاتی عملے میں ایک آیا بھی شامل ہے، جب کہ امام مسجد، مؤذن، ایک ہیڈ خدمتگار، 2 خدمت گار، 13 ڈرائیورز، 17 نائب قاصد، ایک اسٹیورڈ، 14 بیئرر، 4 دھوبی، ایک براس مین، واشر مین، 2 تندورچی، 3 مالشی شامل ہیں۔ گورنر ہاؤس کے لیے تقریباً 69 لاکھ روپے کے نئے پودے خریدے گئے۔
