نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں عالمی دباؤ کے باعث مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکیاں دینے والے انتہاپسند ہندو پنڈت کو سزا مل گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق انتہاپسند نرسینگھ انند گری پر نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کو فروغ دینے کے الزامات کے تحت فرد جرم عائدکردی گئی ہے اور عدالت نے مزید تفتیش کے لیے اسے 14روز تک پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ پنڈت نے دائیں بازو کے حمایتوں کے اجلاس میں بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کیا تھا۔ نرسینگھ انند گری قوم پرستوں کا حمایتی اور ہندو پنڈیتوں کی جماعت کا رہنما ہے۔ اسے پہلے بھی کئی بار گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مقامی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ دوسرا شخص ہے جسے ایک ہفتے کے دوران سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیٹ پر مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز بیانات پر دہلی خواتین کمیشن نے پولیس سے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خواتین کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں حکومت کی مجرمانہ خاموشی کی شدید مذمت کی گئی۔ واضح رہے کہ بھارت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہندو انتہا پسندی بڑھتی جارہی ہے جس کا نشانہ بالخصوص مسلمان اور مسلم خواتین ہیں ،تاہم مودی کی سرپرستی اور مجرمانہ خاموشی نے انتہاپسندوں کے حوصلے بڑھا دیے ہیں۔ بیان میں دہلی پولیس کے سائبر سیل سے کہا گیا کہ وہ انتہاپسندوں کا سراغ لگا کر ان کی کارروائیوں کا نوٹس لے۔
The post بھارت، مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکیاں دینے والے پنڈت کو سزا appeared first on Daily Jasarat News.
