سکھر(نمائندہ جسارت )سکھر شہر کے بنیادی عوامی شہری اور تاجروں کے مسائل کے حل کیلیے حکومت سندھ کے نمائندے، ضلع سکھر کے افسران اور 62 سے زائد تاجر تنظیموں کے وسیع تر اتحاد آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز میں شامل تاجر تنظیمات کے عہدیداران اور عمائدین شہر حاجی محمد ہارون میمن کی رہائش گاہ پر سر جوڑ کر بیٹھ گئے، اس سلسلے میں آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن اپنی رہائش گاہ پر تقریب عشائیہ کا اہتمام کیا اور وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور سابق میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ، ڈپٹی کمشنر سکھر جاوید احمد، ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک، سکھر میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر علی رضا انصاری کی موجودگی میں صفائی ستھرائی، تعلیم و صحت، نکاسی و فراہمی آب، امن و امان و سیکورٹی معاملات پر توجہ دلائی اور ان میں بہتری کیلیے تجاویز پیش کیں اور کہا کہ صاف و سرسبز سکھر مہم قابل تعریف ہے تاہم اس کلین اینڈ گرین سٹی مہم کا دائرہ ایس ایم سی کی تمام 26 یونین کمیٹی تک پھیلایا جائے ،ٹریفک جام کے مسئلے کے حل کیلیے پارکنگ ایریاز قائم کیے جائیں، اسٹریٹ لائٹس کے نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ حاجی محمد ہارون میمن نے کہا کہ آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کی کاوشوں کے نتیجے میں 11 سال قبل غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر میں شروع ہوا جو سول اسپتال سکھر کے چند کمروں میں چلایا جارہا ہے مہر میڈیکل کالج کی اپنی عمارت کی تعمیر طویل عرصے سے زیر التوا ہے اس کی تعمیر جلدا ز جلد کراکے مہر میڈیکل کالج اصل عمل میں منتقل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی مراکز میں ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی فٹ پیٹرولنگ سے جرائم کم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک جام کے مسئلے کے حل کیلیے گھنٹہ گھر پر قائم موٹر سائیکلوں اور کاروں کی چارجڈ پارکنگ ختم کرائی جائے۔تقریب عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور سابق میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ تاجروں اور شہریوں کو تمام بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کیلیے حکومت سندھ اور ضلع انتظامیہ سمیت سکھر میونسپل کارپوریشن اور محکمہ پولیس اپنی اپنی ذمے داریاں ادا کررہے ہیں، سکھر میں پارکنگ ایریا یعنی پارکنگ پلازہ کی تعمیر کیلیے 60 کروڑ روپے منظور ہوچکے ہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلیے 6 ارب روپے کے منصوبے کا آغاز ہوچکا ہے جو 2 سے ڈھائی سال میں مکمل ہوگا سکھر شہر میں نصب 47 واٹر فلٹریشن پلانٹس کو 30 دن میں فعال کرکے پلانٹ آپریٹر مقرر کردیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرانا سکھر میں فراہمی ونکاسی آب کا 70 سالہ پرانا مسئلہ حل کردیا گیا، ایک ماہ کے دوران پرانا سکھر کے دیگر مسائل بھی حل کردیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش روڈ، قریشی روڈ، مائیکرو سمیت گڈانی پھاٹک تک ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائٹ ایریا سکھر اور گولیمار کے صنعتی علاقوں کی حالت پہلے سے بہتر بنادی گئی ہے۔ ارسلان شیخ نے کہا کہ سکھر شہر کی بہتری کیلیے مجھ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران 12 سے 14گھنٹے کام کررہے ہیں رات کے و قت بھی سروسز جاری رہتی ہیں، انہوں نے کلین اینڈ گرین سٹی مہم میں تاجروں اور شہریوں کی بھرپور شمولیت کو سراہا اور آل سکھر اسمال ٹریڈرز کے مثبت تعمیری اور اچھے کردار کی تعریف کی۔ تقریب عشائیہ کے شرکا سے ڈی سی سکھر جاوید احمد، ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ اعلیٰ سکھر علی رضا انصاری، ملک رضوان الحق، بدر رفیق قریشی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مختلف تجارتی تنظیموں کے عہدیداروں نے افسران سے سوال و جواب بھی کیے شکایات بھی کیں اور اپنے اپنے بازاروں اور علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر افسران کا کہنا تھا کہ سکھر شہر سب کا ہے سب کو مل جل کر اس شہر کی بہتری کیلیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر فیصلہ کیاگیا کہ صفائی ستھرائی کی بہتری کیلیے تمام بازاروں میں ہر دکاندار اپنی اپنی دکان کے سامنے یا مخصوص جگہ پر ڈسٹ بن رکھیں گے کچرا سڑکوں گلی محلوں اور عمارتوں کی گیلریوں سے نہیں پھینکا جائیگا بلکہ کچرا کنڈی میں ڈالا جائیگا تاکہ شہر صاف ستھرا رہ سکے اور تمام شہری کچرا رات کے اوقات میں اپنے اپنے گھر اور دکانوں کے باہر تھیلی شاپر میں رکھیں گے تاکہ کچرے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔
