اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرول 10، ڈیزل 10اور بجلی 5روپے سستی کرنے کا اعلان کردیا۔پیرکوقوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یقین دہائی کرائی کہ آئندہ بجٹ تک پیٹرول ، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہیں، اگر حکومت ہر مہینے 70 ارب روپے کی سبسڈی نہ دے تو پاکستان میں آج پیٹرول کی قیمت 220 روپے فی لیٹر ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سمری بھیجی جس میں کہا گیا کہ 10 روپے فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھانی پڑے گی کیوں کہ دنیا میں تیل مہنگا ہوچکا ہے لیکن میں آپ کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں قیمت بڑھانے کے بجائے ہم کم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی فی یونٹ 5 روپے سستی ہونے سے 20 سے 50 فیصد تک بجلی کے بل کم ہوجائیں گے،دوسری جگہوں سے سبسڈی کم کرکے اس شعبے میں قوم کو ریلیف دے رہے ہیں۔عمران خان کے بقول مجھے خوف ہے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ابھی نیچے نہیں آئیں گی اور گیس کی قیمت بھی اوپر جائے گی،ساتھ ہی جو روس سے ہمیں گندم لینی ہے وہ بھی مہنگی ہوگئی ہے،روس جانے کا مقصد گندم اور گیس کی درآمد کے معاہدے کرنا تھا،چین اور روس کا اہم دورہ کیا ملک کو عزت ملی ،مستقبل میں میرے دوروں کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ انہوںنے کہا کہ بی اے پاس نوجوانوں کو 30 ہزار روپے کی انٹرن شپ دلوائیں گے،احساس پروگرام پر 80 لاکھ خاندانوں کو اب 12 ہزار کے بجائے 14 ہزار روپے ملا کریں گے، آئی ٹی سیکٹر میں کمپنی اور فری لانسرز کو 100 فیصد ٹیکس چھوٹ دے دی ، اسٹارٹ اَپس کو 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس سے چھوٹ دے دی ہے، جو انڈسٹری لگائے گا اس سیکوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔وزیراعظم کے مطابق اوور سیز پاکستانی انڈسٹری میں سرمایہ کاری کریں گے تو 5 سال ٹیکس چھوٹ دیں گے، کسانوں کو سود کے بغیر قرض دیں گے، غریب گھرانوں کو ’سستا گھر‘ قرضہ دیں گے، بڑی مشکل سے بینکوں کو غریب لوگوں کو قرضہ دینے کے لیے راضی کیا ہے، مزدور، ویلڈرز کے لیے گھر کے قرض کے لیے آسانی پیداکی، بینکوں نے150ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دے دی ہے۔عمران خان کے الفاظ میں صحت کارڈ غریب گھرانے کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، مارچ تک ہر گھرانے کے پاس صحت کارڈ ہوگا، یہ پورا ہیلتھ سسٹم بن رہا ہے، ہمارا ملک اور ہماری معیشت صحیح راستے پر چل پڑی ہے۔ عمران خان نے قوم سے خطاب میںمہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اعداد وشمارشیئر کرتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ عوام ان اعدادو شمار کو گوگل پر سرچ کر سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن شور مچاتی ہے کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے، یہ شور مچانے کے ساتھ مہنگائی کے خاتمے کا حل بھی پیش کریں ۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکاکاساتھ دیناغلط تھا ،عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں تو کبھی اس پارٹی کو ووٹ نہ دیں جس کے سربراہ کی دولت بیرون ملک پڑی ہو، ایسے لوگ کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنا سکتے۔عمران خان کے بقول دنیاکی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، بدلتی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، خارجہ پالیسی اپنے ملک کے مفادات کے لیے ہونی چاہیے،جب سے سیاست شروع کی خواہش تھی پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ہو۔انہوں نے کہا کہ آزاد قوم کا مطلب ہوتا ہے وہ پالیسی ہو جو قوم کے مفاد میں ہو، امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا، ہمیں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، بدقسمتی سے وہ خارجہ پالیسی پاکستانیوں کے فائدے کے لیے نہیں تھی، 80 ہزار پاکستانیوں کی جانیں گئیں، شرمناک بات یہ تھی کہ ایک ملک کسی ملک کے لیے جنگ کر رہا ہے اور اسی پر بمباری ہو رہی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوجی آمر تو چاہتے ہیں کہ دنیا ان کو مانے اور تسلیم کرے لیکن حیران کن طور پر مشرف کے دور میں صرف 10 ڈرون حملے ہوئے جب کہ آصف زرداری اور نوازشریف کے جمہوری دور میں 400 ڈرون حملے ہوئے، یہ توجمہوری حکومتیں تھیں انہیں امریکا کو کہنا چاہیے تھا کہ بچے اور عورتیں مر رہے ہیں، امریکی صحافی نے لکھا کہ زرداری نے کہا ڈرون حملوں میں بے گناہوں کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیراعظم نے پرپیکا ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے کہا کہ یہ قانون 2016 ء میں بنایا گیا، ہم صرف اس میں کچھ ترامیم کرنے جا رہے ہیں، اس قانون پر کافی شور مچا ہوا ہے، اس قانون کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جس طرح کا گند آرہا ہے کہ اسے کنٹرول کرنا ضروری ہے، چائلڈ پورنوگرافی کی بھرمار ہے، ایسا مواد کسی مہذب دنیا کے سوشل میڈیا پر نہیں جیسا ہمارے ہاں موجود ہے۔ سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو بھی نہیں بخشا جارہا، ایک صحافی نے لکھا کہ عمران خان کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے، وزیر اعظم کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے سوچیں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، کہا جا رہا ہے کہ آزادی صحافت پر پابندی لگ گئی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں، یہ جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے ہے، حقیقی صحافی تو اس قانون سے خوش ہوں گے،اب تک ایف آئی اے میں رجسٹر 94ہزار مقدمات میں سے صرف 38 کا فیصلہ ہوا ہے ۔عمران خان نے مزید کہا کہ جب ایک صحافی نے نواز شریف کے خلاف لکھا تو نواز شریف نے اسے 3 دن بند کردیا، میں نے ساری زندگی تنقید سنی ہے، اچھی صحافت معاشرے کا اثاثہ ہیں، تنقید ہمیں آگاہ کرتی ہے، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے لیے کہا گیا کہ جادو اور ستاروں کے ذریعے چنا گیا، آزادی صحافت پر پابندی کی بے بنیاد باتیں پھیلائی جارہی ہیں، آج پاکستان کے اخبار اور میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں 70فیصد خبریں ہمارے خلاف ہیں لیکن ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ قانون اس لیے لے کر آئے تاکہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر آنے والے گند کو روکا جا سکے۔مزید برآں وزیراعظم میڈیا آفس کی پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کینٹربری کے آرچ بشپ سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی ، مذہبی برداشت اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان تعلق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ثقافتی لحاظ سے متنوع ملک ہے جو ہندوئوں، عیسائیوں سمیت مختلف مذہبی اقلیتوں کا گھر ہے جہاں یہ تمام لوگ پرامن طریقہ سے رہ رہے ہیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردا ر ادا کر رہے ہیں جبکہ بھارت میں اقلیتوں کو بدترین مذہبی امتیاز اور عدم برداشت کا سامنا ہے جو قابل افسوس ہے، ہماری حکومت نے اسلام کے حقیقی پیغام کو فروغ دینے کے لیے رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی قائم کی ہے۔
