English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت مسترد کرتے ہیں،علی گورایہ

القمر

فیصل آباد(جسارت نیوز)کسان بورڈ کے ضلعی صدر علی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت2200روپے کومستردکرتے ہیںیوریا کھادکی قلت اوربلیک میںفروخت،،زرعی مداخل، بجلی اورپیٹرول قیمتوں میں بے جا اضافے کے باعث گندم کی فصل پر بے پناہ اخراجات ہوئے ہیں، کسان کی محنت اس کے علاوہ ہے،جبکہ حکومت نے محض 2200روپے امدادی قیمت کا اعلان کرکے کسانوں کامعاشی قتل کردیا ہے۔انہوں نے کہ اس وقت مارکیٹ میں گندم کم ازکم 3200روپے فی من میں فروخت ہورہی ہے جبکہ گندم کی پسائی کرکے چکی فروش اسے 3400روپے فی من فروخت کر رہے ہیں،کسانوں کو گندم کی فصل سے کچھ آمدن ہونے کی توقع تھی جسے حکومت نے خاک میں ملادیاہے،2200روپے گندم فروخت کرکے کسان ادھارلی گئی کھاد،زرعی ادویات اوردیگرزرعی مداخل کے پیسے بھی پورے نہیں کرسکے گا،حکومت کسانوںسے گندم کم ازکم2800روپے فی من میں خریدے تاکہ ان کی کچھ دادرسی ہوسکے ۔انہوں نے کہاکہ پورے ملک کو خوراک مہیاکرنے والے کاشتکارآج خود فاقوں پر مجبورہوچکے ہیں۔ حکمرانوں کی اقربا پروری کے سبب اس وقت ملک میں کھاد کا شدید ترین بحران پیدا ہو چکا ہے۔پنجاب میں کھاد کی قیمت 1700 بڑھ کر 3500سے زائدہوچکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ کسان جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے لیکن حکمران اسی کی ہی ہڈی کو توڑنے کے درپے نظر آ رہے ہیں۔ اگر ملک قحط سالی کا شکار ہوا تو اس میں حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی ہی نہیں بلکہ بد نیتی کا بھی عمل دخل ہوگا۔انہوںنے کہا کہ ڈی اے پی غریب کسان کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے، یوریا کھاد بھی مارکیٹ سے غائب ہے۔بیج اور کرم کش دواؤں کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔شوگر ملز مالکان کی جانب سے کسانوں کا استحصال ہو رہا ہے مگر انتظامیہ اورصوبائی حکومت آنکھیں بند کررکھی ہیں۔حکمرانوں کی ساری کارکردگی اخباری بیانات تک محدود ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند ہوناچاہیے۔ زرعی مراحل پرجنرل سیلز ٹیکس کو مکمل طورپر ختم کیا جانا چاہیے۔ کاشتکارو ںکو سستی بجلی اورڈیزل کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے