حکومت کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ الزامات کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمران خان تحریک عدم اعتماد کی صورت میں اپوزیشن کی طرف سے سامنے آنے والے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی مختلف طریقے سے ترتیب دیتے تو شاید انہیں اس وقت شدید سیاسی تنہائی کا سامنا نہ ہوتا اور اقتدار ہاتھوں سے سرکتا دکھائی نہ دیتا۔ حکومتی کیمپ میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں ان کے اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں بے دخل کر دیا گیا ہے۔ خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان سویلین جاسوسوں نے جان بوجھ کر حکومت کو اپوزیشن کے ایم این ایز کی تعداد اور اتحادیوں کی ناراضگی کے بارے میں اندھیرے میں رکھا۔
بالاخر ایسا لگتا ہے کہ دی گریٹ خان اور اس کے تیزی سے گھٹتے ہوئے گروہ کو بھیڑیوں کے سامنے پھینک دیا گیا ہے۔ اس کی وجوہات جو ہمیں سننے میں آ رہی ہیں، وہ یہ ہے کہ لاڈلے شہزادے نے برادران کی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی لیکن وہ اس سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ لہذا، اب آتش فشاں پر ڈھکن رکھنے کی ضرورت نہیں جو بہرحال پھٹنے والا ہے۔ عزت ماب شاہی شخصیت کی آمد کے لیے دکھاوا جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قارئین کو مولانا کا وہ بیان یاد ہوگا جس میں اپوزیشن کے حامیوں کو 25 مارچ سے پہلے اسلام آباد پر اترنے کی تلقین کی گئی تھی۔ ٹھیک ہے، یہ اس لیے تھا کہ آنے والے بھائیوں، خاص طور پر لاڈلے شہزادے کو شرمندہ نہ کریں۔ مؤخر الذکر اب ظاہر نہ ہونے کے ساتھ، وہ دباؤ ختم ہوگیا ہے۔
دوسری وجہ جو ناقابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ دی گریٹ خان نے کچھ ویڈیوز کیساتھ اپنی آستین چڑھا لی ہے۔ اس کے قریبی مشیروں نے اس سے باز رہنے کی التجا کی ہے، یہ ایک جوہری آپشن ہے، لیکن اس کا جھکاؤ "آخری گیند تک” بلے بازی کی طرف ہے جیسا کہ وہ کرکٹ کے استعارے میں کہتے رہتے ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہحکومت کی اتحادی جماعت (ق) لیگ اورایم کیوایم نےشعبان میں بقر عید مانگ لی اور بحران حل کرنےکے لیے عمران خان مائنس ون فارمولاپیش کردیا۔ ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ (ق) موجودہ سیاسی بھونچال میں نئی کہانی لے کر سامنے آگئیں، دونوں جماعتوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم خود تو نہیں بچ سکتے، اب وہ پی ٹی آئی کی حکومت بچانے کی کوشش کریں۔
ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم تو بچتے ہوئے نظر نہیں آرہے لیکن پی ٹی آئی حکومت بچ سکتی ہے لہٰذا حکومت بچانے کے لیے ایسے بہت سے آپشن ہیں جن پر غور ہو سکتا ہے۔دوسری جانب (ق) لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کی بات کی تائید کی گئی ہے۔طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ کوئی نیا ایڈونچر کرنے کے بجائے پی ٹی آئی سے ہی کسی ایسے رکن کو سامنے لائیں جس پر وزارتِ عظمیٰ کے لیے اتفاق کیا جاسکے ، ووٹنگ کے دن تک کی مہلت ہے۔علاوہ ازیں خالد مقبول صدیقی اور طارق بشیر چیمہ دونوں نے سندھ میں گورنر راج کی بھی مخالفت کردی۔
وزیر اعظم ایک ہاری ہوئی جنگ کو الزامات اور سیاسی ہتھکنڈوں سے جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ ایک عوام دوست اور قوم کی بھلائی چاہنے والے لیڈر کے طور پر اپنے امیج کو بھی تباہ کرنے کا سبب بنے ہیں۔ عمران خان جمہوری عمل کے نتیجہ میں ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ انہیں قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت نے قائد ایوان چنا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے محض نظریاتی ہی نہیں عملی طور سے بھی تسلیم کیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے منشور کے مطابق پاکستان کو ایک بہتر معاشرہ بنانے کی کوشش کریں۔ اگر اسی اسمبلی کے ارکان اب یہ مانتے ہیں کہ عمران خان اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور ان کی اکثریت اب ان پر اعتماد نہیں کرتی تو وہ دھونس، دھمکی اور دباؤ کے ہتھکنڈوں سے محض اس عذر پر خود کو قوم پر مسلط نہیں رکھ سکتے کہ وہ ایماندار ہیں اور قوم کی بہتری چاہتے ہیں۔
ملک کی مختصر سیاسی تاریخ میں متعدد لیڈروں نے سیاسی بحران میں باوقار طریقے سے استعفی دے کر ایک طرف ہو جانے کا راستہ چننے کی بجائے، تصادم اور جوڑ توڑ کا طریقہ اختیار کیا لیکن مطالعہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی۔ کسی لیڈر کو سیاسی چیلنج کی صورت میں خود کو عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کر کے استعفیٰ دینے اور دوسرے قائدین کو حالات کی بہتری کے لئے اپنا شوق پورا کرنے کی دعوت دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔
عمران خان یہ راستہ اختیار کر کے تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اسپیکر سے درخواست کریں کہ قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طور سے بلایا جائے۔ حکومت کو اگر ایوان مین اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہو تو عمران خان تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا اصرار کرنے کی بجائے استعفی دے کر خود کو ایک باوقار اور بے لوث لیڈر کے طور پر پیش کریں۔ ان کا یہ طرز عمل ان کی ہزار سیاسی کمزوریوں کو چھپا لے گا۔ وہ ایک بار پھر عوامی مقبولیت میں نئی بلندی تک پہنچنے کی امید کرسکیں گے۔
تاہم ایسا کرنے کے لئے تاریخ سے سبق سیکھنے اور جرات کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ کیا عمران خان ایسی حوصلہ مندی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟ کاش وہ یہ سمجھ سکیں کہ باوقار طریقے سے ہار قبول کرنا کوئی میچ جیتنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح اگلی فتح کا امکان روشن ہوجاتا ہے۔ جیت کے لئے ذلت قبول کرنے والا لیڈر کبھی اچھا رہنما نہیں ہو سکتا ۔ وہ عوام کی نظروں سے بھی گرتا ہے اور تاریخ بھی اسے اچھے الفاظ میں یاد نہیں رکھتی۔
ہفتہ، 19 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post کیا مائنس عمران فارمولا قابل عمل ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
