بدین، گولارچی (نمائندہ جسارت)سندھ کی ساحلی پٹی کے اہم ضلع بدین کے 300 سے زائد دیہاتوں میں پینے کے پانی کا بدترین بحران پیدا ہو گیا۔ایک درجن سے زائد دیہی علاقوں سے نقل مکانی کی اطلاعات ،ضلع کی تمام چھوٹی بڑی نہروں میں ریت اڑنے لگی، بدترین قلت آب کے باعث انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشی بھی شدید متاثر ہونے لگے،شہری علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے واٹر سپلائی کے تالاب بھی خشک ہو گئے علاقہ مکین زیر زمین کا مضر صحت پانی پینے پر مجبور۔ محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی اچانک کمی کے باعث روہڑی مین کینال میں پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اس وقت روہڑی مین کینال میں پانی کا بہاؤ صرف چار ہزار کیوسک ہی رکارڈ کیا جارہا ہے جس میں مزید کمی کا خدشہ ہے محکمہ آبپاشی کے حکام نے آبادگاروں کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تمام آبادگاراپنی صوابدید پر فصلوں کی کاشت کریں دوسری جانب قلت آب کے باعث ضلع بدین کی اہم نہروں گونی کینال،سورہڈی،امام واہ،شیرواہ،جام واہ، دبی،سنی گونی،راج واہ،علی واہ، بہادر واہ سمیت دیگر میں گزشتہ دو ماہ سے پانی کی فراہمی معطل ہے جس کے باعث نہروں میں ریت اُڑ رہی ہے جبکہ اہم شہروں گولارچی ، کھورواہ، کڑیو گہنور، ترائی، کڈھن، کھوسکی، شادی لارج، ملکانی شریف، خیرپورگمبوہ کے پانی ذخیرہ کرنے کے واٹر سپلائی کے تالاب مکمل سوکھ گئے ہیں جس کے باعث شہری پانی کی بوند بوندکو ترس گئے ہیں ساحلی علاقوں میں خشک سالی کے باعث انسان اور مویشی جوہڑوں کے جمع شدہ مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔قلت آباد کے خلاف مقامی آبادگار و سماجی رہنماوں نور احمد ٹالپور،حنیف نظامانی،عزیز ڈیرو، فیروز عالم بہار،جاکھرو نوحانی، عبدالرشید گجر،تنویر ریحان ودیگر نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ضلع بدین کی نہروں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہی فوری طور پر پینے کا پانی فراہم کیاجائے تاکہ نہ صرف علاقہ مکینوں کو پینے کا پانی میسر ہو سکے بلکہ مقامی زراعت کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
