میرپور خاص (نمائندہ جسارت) سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص عدالت میں آکر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے تو اس عدالت کے جج کو نوکری چھوڑ کر کاروبار شروع کردینا چاہیے، سول جج اگر اپنے اختیارات کا درست استعمال کریں تو لوگ ہائی کورٹ جانا ہی چھوڑ دیں، عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے کیلیے سول سرونٹ ہوں یا ججز ہوں ان تک عام آدمی کی پہنچ ہونی چاہیے، میرپورخاص شہر کی حالت بہت خراب ہے ضلع انتظامیہ کو فوری طور پر ماسٹر پلان بناکر شہر کی حالت زار بدلنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پروٹوکول کی کوئی اہمیت نہیں اس سے بڑھ کر عوام کے دلوں میں عزت ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے پاس جو عہدے ہیں وہ عوام کی امانت ہیں اگر عوام کیلیے کچھ نہیں کر سکتے تو عہدہ چھوڑ دینا چاہیئے انھوں نے کہا کہ میں عوامی مفاد میں فیصلہ نہ کر سکتا تو جج کا عہدہ چھوڑ کر واپس چلا جاتا حیدر بخش جتوئی کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا حیدر بخش جتوئی نے ہاریوں کیلیے جدوجہد کرتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا، مسعود جو کہ اسسٹنٹ کمشنر بھرتی ہوئے تھے اور وہ خود کو مسعود ہاری کہلواتے تھے انھوں نے کہا کہ سول جج کے جو اختیارات ہیں اگر وہ ان اختیارات کا استعمال کریں تو سائلین ہائیکورٹ کا رخ کرنا چھوڑ دیں گے نوجوان وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس بار میں 17 سال گزارے ہیں اور اپنے سینئر سے سیکھا ہے اور آج بھی ان سینئر کی عزت کرتا ہوں انھوں نے کہا کہ وکالت میں ہمیشہ مواقعے موجود رہتے ہیں نوجوان وکلاء محنت کریں اور قانون کے ساتھ ساتھ مختلف موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کر کے اپنی معلومات میں اضافہ کریں کیونکہ وکیل انسانی حقوق کے علمبردار ہوتے ہیں ذمہ داریاں بہت سخت اور تکلیف دہ ہوتی ہیں عام آدمی بہت تکلیف میں ہے 17 سال وکالت کے بعد جج بنا پر رویہ نہیں بدلہ فیصلے قانون کے مطابق ہوں لیکن رویہ بہتر ہونا چاہیے جس سے لوگوں میں تحفظ کا احساس ہو متاثرہ شخص کو عدالت میں اور کسی بھی آفیسر کے دفتر عدم تحفظ کا احساس ہو تو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے مزدور اللہ تعالیٰ کا دوست ہے ججوں اور افسران کو بھی مزدور بن کر سوچنا چاہیے۔ انہوں نے میرپورخاص شہر کی حالت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی حالت بہت خراب ہے شہر کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے لیکن کوئی بھی ماسٹر پلان نہیں ہے ہم نے میگا پروجیکٹ کے حوالے سے ہائیکورٹ میں آنے والی پیٹیشن پر کمیشن قائم کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا انھوں نے کہا کہ میں بار کا صدر تھا تو ہائیکورٹ سمیت دیگر مطالبہ کرتا تھا اس بار سے میرا تعلق رہا ہے میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا پولیس اسٹیشنوں سمیت عدالتوں اور آفیسوں میں میں عوام دوست ماحول بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میرپورخاص بار نے سینئر وکلاء کی خدمات پر انہیں شیلڈیں دے کر بہترین کا م کیا ہے یہ سینئر وکلاء میرے بھی سینئر ہیں ان پر ہمیں فخر ہے۔
