English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا سازش کرنیوالا سفیر کو بلا کر بتائے گا؟ ڈاکٹر ملیحہ لو دھی

Alkhidmat

اسلام آباد (صباح نیوز) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اگر کوئی سازش کر رہا ہے تو کوئی سفیر کو بلا کر بتائے گا، سازش تو ہمیشہ خفیہ ہوتی ہے، کوئی بلاکر تو نہیں بتاتا کہ ہم آپ کے خلاف سازش کر رہے ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، پی ٹی آئی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اس بیانیہ کو چھوڑ دیں اوراپنی مہم کے لیے دیگر مسائل کی طرف توجہ دیں۔ ہمیں مداخلت اور سازش میں فرق کرنا چاہیے کیونکہ ان دونوں چیزوں میں بہت فرق اور گیپ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے عمران خان کی حکومت کو گرانے کے حوالے سے کوئی امریکی سازش نہ ہونے کے بیان سے عمران خان کے بیانیہ کو دھچکا تو لگا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی طرف سے ایک بیانیہ سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے ایک سازش کی بات کی تھی کہ انہیں امریکی سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا ہے، تو میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگوں کے اس بارے میں شکوک وشبہا ت تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے جس طرح دو ٹوک الفاظ میں یہی کہا کہ کوئی سازش نہیں تھی یعنی اس اعلامیہ میں اگر کوئی سازش کا لفظ ہی نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ اگر لفظ ہی نہیں ہے تو سازش بھی نہیں ہے، اس طرح کا کوئی نتیجہ ہی نہیں نکالا گیا، عمران خان کے بیانیہ کو دھچکا تو لگا ہے، لیکن کیا لوگ اس بات کو مانیں گے یا نہیں‘ یہ ہمیں آگے دیکھنا ہے۔ نئی حکومت نے اعلا ن کیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی میںاس سارے مسئلے کا جائزہ لیا جائے تاکہ ہمیشہ کے لیے اس معاملے کو دفن کردیا جائے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ ہمیں مداخلت اور سازش میں فرق کرنا چاہیے کیونکہ ان دونوں چیزوں میں بہت فرق ہے، مداخلت تو کوئی نئی چیز نہیں ہے اس لیے کہ جب میں امریکا میں سفیر تھی تو اس زمانے میں امریکا کا پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہم پر بہت دباؤ ہوتا تھا تو وہ بھی تو مداخلت تھی وہ تو ہمارا اپنا مسئلہ تھا۔ یہ ہمارے خطے اور سیکورٹی کا مسئلہ تھا۔ وہ توکہتے رہتے تھے کہ آپ یہ نیوکلیئر پروگرام بند کریں، یہ مداحلت تھی، لیکن ہم نے ان کی ایک نہیں مانی، یہ تو ہماری مرضی ہے کہ جہاںہمارے امریکا کے ساتھ ہمارے اختلافات ہیں، ہم اپنے مفاد کے مطابق جائیں گے۔ ان کو کہیں گے کہ ہم آپ کے سا تھ اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرکوئی مداخلت تھی تو میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مداخلت کا جواب دینے میں اتنی دیر کیوں لگائی گئی تھی کئی ہفتے گزر گئے اور اس وقت اگر سفیر نے یہ مناسب نہیں سمجھا تو وہ خود بھی اسی وقت اس کا جواب دے سکتا تھا، میں نے تو بہت دفعہ جواب دیا، میں جب امریکا میں سفیر تھی تو اس وقت بھی اس طرح کے مرحلے آئے، ہم پر جوہری پابندیاں لگیں، میں امریکا میںتھی جب 9/11 ہوا، اور میں امریکا میں تھی جب ہمارے افغا نستان اور طالبان کے حوالے سے اختلافات تھے۔ اس پر ہمارے کافی اختلافات ہوتے تھے، تو اس حوالے سے ہمیں یہ فرق کرنا چاہیے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی سازش ہورہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میںان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کا معاملہ بہت حساس مسئلہ ہے اور جو بین الاقوامی سطح پر ہمارے مخالفین اور حریف ہیں وہ توچاہتے ہیںکہ اس طرح کی کوئی چیز سامنے آئے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں، تو اگر ہمارے اپنے ہی لوگ یہ کہنا شروع کردیں تو ظاہر ہے اس سے ہمارے مفاد کو نقصان ہوتا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل صحیح کہا کہ اس پر بات چیت کرنے سے پہلے انسان کو سوچ لینا چاہیے کہ غلط فہمی میں ہی کوئی ایسی بات نہ کر دیں جس سے جو ہمارے دشمن ہیں اور جو ہمارے مخالف ہیںیہ ان کے ہاتھ میں چلا جائے اور وہ ہمارے خلاف استعمال کریں، اس لیے ہر کسی کو اس حساس معاملہ پر چوکنا رہنا چاہیے۔

Alkhidmat

 

Alkhidmat

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے