کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا میں عوام کے بعد طلبہ بھی حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعہ کے روز دارالحکومت کولمبو میں ہزاروں طلبہ تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکیں بند کرکے حکومت سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور تیز دھار پانی کا بھی استعمال کیا۔ جواب میں مشتعل نوجوانوںنے پولیس پر پتھراؤ کیا اور املاک نذرآتش کردیں۔ اس دوران مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت پر بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی اور اس دوران پولیس اور نوجوانوںمیں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران ہڑتالوںکا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں ٹریڈ یونین موومنٹ کے زیر اہتمام ہونے والی ہڑتال میں جمعہ کے روز لاکھوں مزدور وں نے بائیکاٹ کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک گیر ہڑتال کے نتیجے میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ جمعہ کے روز بسیں اور ریلوے سروس روک دی گئی ، جب کہ تمام تر دفاتر اور فیکٹریوں سے ملازمین بھی غیر حاضر رہے۔ اس سے قبل ٹریڈ یونینوں کی جانب سے ملک میں شدید معاشی بحران کے نتیجے میں ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی اور حکومت سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
