English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سری لنکا میں مظاہرے شدید ہو گئے،وزیراعظم مستعفی

القمر

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے شدید مالی بحران کے بعد ملک گیر ہونے والے عوامی احتجاج، مظاہروں اور امن و امان کی شدید بگڑتی ہوئی صورت حال سے مجبور ہوکر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

بی بی سی کے مطابق، سری لنکا میں شدید مالی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی دباؤ پر وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

  توقع ہے صدر گوتبیا راجا پاکسے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ کابینہ تشکیل دینے کے لیے مدعو کریں گے۔

صدر گوتبیا راجا پاکسے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کے چھوٹے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے وہ ملک میں شدید مالی بحران اور پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضرورت کی بے پناہ قلت اور عوامی دباؤ کے باوجود اپنے بھائی سے استعفیٰ نہیں لے رہے تھے۔

مقامی  میڈیا نے دعویٰ کیا ہے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کا استعفیٰ اُس وقت سامنے آیا ہے جب صدر گوتبیا راجا پاکسے نے گزشتہ جمعے کے روز ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں حالات سے مجبور ہو کر وزیراعظم سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی۔

صدر گوتبیا راجا پاکسے نے اپنے بھائی اور وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے کی سیٹ بچانے کے لیے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک میں کرفیو بھی نافذ کیا تھا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تھا تاہم مظاہرے تھم نہ سکے تھے۔

 دوسری جانب سری لنکا ميں ٹريڈ يونينوں نے آج سے ايک ہفتے کے ليے احتجاج اور ريليوں کا سلسلہ شروع کر ديا ہے۔

وہ حکومت سے نالاں ہيں اور تبديلی کا مطالبہ کر رہے ہيں۔

ان مظاہروں ميں ايک ہزار سے زائد يونينيں شامل ہيں۔ اختتام ہفتہ پر پارليمان کی جانب ايک مارچ کا اعلان بھی کيا گيا ہے، جس کا مقصد صدر گوٹابايا راجاپاکسے سے استعفے اور نئی حکومت کے قيام کا مطالبہ ہے۔

واضح رہے کہ ان دنوں سری لنکا شديد اقتصادی بحران کا شکار ہے اور يہ ملک ديواليے کے دہانے پر کھڑا ہے۔

حکومت نے گزشتہ جمعے کے روز ملک گیر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے