English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

استقبال محرم کے اعلان “پنج راتا” کی صدیوں پرانی روایت

القمر

ڈیرہ اسماعیل خان میں استقبال محرم الحرام کے سلسلے میں “پنج راتا” رکھا گیا ہے۔ محرم کی آمد سے
4 دن قبل پنج راتا رکھنے کی صدیوں پرانی روایت ڈیرہ میں آج بھی زندہ ہے۔ یہ پنج راتا کیا ہے اور یہ
محرم الحرام کی آمد سے 4 دن قبل کس طرح رکھا جاتا ہے۔
آئیے صدیوں پرانی اس قدیم روایت سے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

پنج راتا سرائیکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی 5 راتیں ہیں۔ پنج راتا دراصل محرم کی آمد سے قبل سوگواری
کا اعلان ہے۔ پاکستان اور آس پاس کے ممالک میں بھی محرم الحرام کی آمد سے 4 دن قبل پنج راتا کی روایت
زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے جو ایک لحاظ سے محرم الحرام کی آمد کا اعلان بھی ہے اور اس سے جڑی
عقیدت کا اظہار بھی۔ محرم کے چاند نظر آنے تک نقارہ بجایا جاتا ہے پھر صف ماتم بچھا دی جاتی ہیں.

بزرگوں کے مطابق بادشاہ تیمور لنگ نے پنج راتے کی راویت باقاعدہ طور پر شروع کی تھی۔ زمانہ قدیم میں محرم الحرام کی آمد سے 4 دن یعنی 5 راتیں قبل 25 زی الحج سے لوگ محرم الحرام کے مہینے کے تقدس و حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے نقارہ و طبل بجا کر پنج راتا کا اہتمام کرتے تھے۔ ساتھ ہی اپنی تمام خوشیوں، شادی بیاہ کی تقریبات کو بطور احترام محرم ختم کر دیتے تھے۔ 25 زی الحج کو نماز مغربین سے کچھ دیر پہلے امام بارگاہوں اور عزاداری سید الشہدا سے منسوب مخصوص مقامات پر طبل و نقارہ بجا کر محرم کی آمد کا اعلان کیا جاتا تھا۔

ڈھلتی شام کے سناٹے میں نقاروں کی آواز کے ساتھ ہی پورا علاقہ نواسہ رسولۖ اور جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم میں سوگوار ہو جاتا تھا۔ دیگر مذاہب و مسالک کے لوگ بھی محرم الحرام کی نسبت سے نقارے کی صدا سنتے ہی اپنی تمام خوشیوں اور شادی بیاہ کے پروگرام ترک کر دیتے تھے۔
برصغیر پاک و ہند میں پنج راتے کی روایت بہت قدیم ہے جس کا مرکز لکھنو ہے۔ وقت کی جدت کے ساتھ ساتھ یہ قدیم روایت دم توڑتی جا رہی ہے مگر انڈیا، افغانستان اور پاکستان کے کچھ مخصوص علاقوں میں پنج راتا کی روایت آج بھی برقرار ہے اور اس کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

انڈیا کے شہر لکھنو اور افغانستان میں آج بھی کہیں کہیں نقارہ بجا کر پنج راتا کے طور پر محرم کی آمد کا اعلان کیا جاتا ہے پاکستان میں یہ روایت صرف تین شہروں صوبہ پنجاب کے شہر بھکر، دریا خان اور خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان و مضافات میں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے ان علاقوں میں آج بھی پنج راتا کے سلسلے میں امام بارگاہوں میں نقارے بجائے جاتے ہیں۔ یہ نقارے یکم محرم الحرام سے 4 دن قبل نماز مغربین سے قبل روزانہ کی بنیاد پر بجائے جاتے ہیں جبکہ یکم محرم الحرام سے امام بارگاہوں میں باقاعدہ مجالس عزا کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے