English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سارہ انعام قتل کیس : عدالت نے سینئر صحافی ایاز امیر کو ڈسچارج کر دیا

القمر

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے کینیڈین خاتون کے قتل کیس سے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث سینئر صحافی ایاز امیر کو ڈسچارج کردیا ہے۔

سارہ انعام قتل کیس میں ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد سینئر صحافی ایاز امیر عدالت میں پیش کیا گیا، سینئر سول جج محمد عامر عزیز نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت پولیس کی جانب سے ایاز امیر کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تفتیشی افسر نے کہا کہ رات کو تفتیش کی ہے ملزم شاہنواز کا ان سے رابطہ ہوا تھا، مقتولہ کے والد بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ پولیس کے پاس ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، اس گھر سے ایاز امیر کا 35 سال سے کوئی تعلق نہیں، انہیں اس کیس سے ڈسچارج کریں۔

 سرکاری وکیل نے بتایا کہ ابھی تک میں جو ثبوت ملا ہے وہ یہ کہ ایاز امیر اور بیٹے شاہ نواز کا واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ ہوا ہے، شادی کے بعد چکوال میں مقتولہ کی موجودگی ثابت ہے، مقتولہ کے والدین کے پاس سارے ثبوت ہیں۔

عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایاز امیر کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ، لہذا انہیں ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے 23 ستمبر کو ایاز امیر کے بیٹے کو اپنی کینیڈین شہری بیوی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے ایک روز بعد اس کیس میں معروف صحافی کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے