English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چوری بچانے کے لیے نیب قوا نین میں تبدیلی کی گئی، عمران خان

القمر

اسلام آ باد: سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چوری بچانے کے لیے نیب قوا نین میں تبدیلی کی گئی،ان کو جو این آر او مل رہا ہے، اس سے بڑی دشمنی کوئی نہیں کرسکتا، کیسز معاف کرکے مزید ڈاکے ڈالنے کے لیے این آراو دیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ٹریڈ یونین ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف وسابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج میں محنت کش لوگوں کے ساتھ ہوں ،پاکستان مزدور تنظیموں سے ملاقات کرنا چا ہتا تھا ، آپ سے آج ملاقات کی وجہ آئندہ کا لائحمہ عمل سامنے رکھوں گا ، سروے آف پاکستان میں اعدادوشمار موجودہ حکومت نے پبلک کئے ہیں۔

انہوں نے کہا جب ہماری حکومت ہٹائی گئی تو 17سال بعد سب سے بہتر معیشت تھی ، ہمارے دور حکومت میں نوکریاں مل رہی تھیں اور ملک کی دولت میں اضافہ ہورہا تھا ۔ 2018میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ بیرونی خسارہ تھا ، 2018میں جب ہماری حکومت آئی تو20ارب ڈالر کا خسارہ تھا ، جب ہمیں حکومت ملی تو تیل 100ڈالر سے بھی اوپر تھا ، جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں،ن لیگ کے دور حکومت میں تیل عالمی منڈی میں آدھی قیمت پر تھا ۔

انہوں نے کہا جو معاہدے کئے تھے ،بجلی خریدیں یا نہیں اس کی قیمت دینا پڑتی ہے ، چیئر میں پی ٹی آئی نے کہا کہ اسحاق ڈار کو لندن سے امپورٹ کیا گیا ہے ، سابقہ دور میں اسحاق ڈار وزیر خزانہ بنے تب ایکسپورٹ 5سال نہیں بڑی تھیں ، بڑے بڑے شوگر مافیاز کسانوں کو پوری قیمت نہیں دے رہے تھے ، ہماری دور حکومت میں پہلی بار کسانوں کو پوری قیمت ملنا شروع ہوئی ،جب کسانوں کے پاس پیسہ آنا شروع ہوا تو اس نے زمین پر لگایا ، ہماری آخری دوسال بمپر کراپ ہوئی ریکارڈ فصلیں ہوئیں ، جب ہم آئے تو موڈیز میں ریٹنگ بی مائنس تھی ، اسے اسٹیبل کرادیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کہتا ہے کہ کورونا کے دوران برصغیر میں سب سے زیادہ روزگار پاکستان نے دیا ، ہم فٹیف میں گرے لسٹ میں تھے ہم نے کوشش کی اس سے باہر نکلے ، ہم نے پاکستان میں 50سال بعد 3بڑے ڈیمز شروع کئے ، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ڈیمز پر کام رک گیا ہے ، ہم نے پہلی بار تاریخ میں بلین ٹری سونامی کاپروگرام شروع کیا ، ہم پر رینٹل پاور میں 250ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ترکی کے صدر سے بات کرکے وہ جرمانہ ختم کرایا ، ہماری حکومت گرائی اور کہا گیا کہ مہنگائی ہوگئی ہے ، ہمارے دور حکومت میں انہوں نے خود مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کئے ، میں کہتا تھا کہ یہ عالمی مہنگائی ہے اس کے باوجود پاکستان سستا ملک تھا ،ہم نے تو آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے ، اس کے باوجود برصغیر میں پٹرول اور ڈیزل پاکستان میں سستا تھا ، گزشتہ 5ماہ میں 50سال سے بھی زیادہ مہنگائی ہے ، جس تحریک عدم اعتماد آئی138روپے کا ڈالر تھا ، آج 200سے اوپر ہے ،5ماہ میں سارے مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ،۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت گرائی گئی اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پتلا ہو جو حکم کریں وہ کرے ، آج میرے پاس بھی پیسے ملک سے باہر ہوتے تو ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرات نہ ہوتی ، ناانصافیپر مبنی نظام نہیںچل سکتا ، انہیںاین آر او مل گیا اس سے زیادہ ملک سے اور کوئی علم نہیں ہے ، حکمرانوں نے اپنی چوری بچانے کیلئے ملکی قانون بدل دیا، تنخواہ دار طبقہ اس مہنگائی میں مارا جارہا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹر منی ٹریل دے سکتا ہے تو تین بار کا وزیراعظم کیوں نہیں دے سکتا ، ایف آئی اے میں اپناآدمی بٹھا کر اپنے کیسز ختم کئے جارہے ہیں، یہ نیب میں اپنا آڈٹ بٹھاکر 200کیسز ختم کراچکے ہیں ، نیب قوانین بدل کر انہوں نے ڈاکہ مارنے کا لائسنس دے دیا ہے ، ان کے اربوں روپے کے کرپشن کیسز تھے ، شہباز شریف پکڑا جانے والا تھا ، مقصود چپڑاسی کیس میں انہیں سزا ہونے والی تھی ، جو قانون بنایا اس میں صر چھوٹا چور پکڑا جائے گا ، بڑانہیں ، اس سے بڑی ناانصافی بنانا ری بپلک میں نہیں ہے ، انہیں بری کردیتے ہیں تو مطلب وائٹ کلر کرائم نہیں پکڑ سکتے ،میں اپنی قوم کو کال دے رہا ہوں ، اس ناانصافی کے خلاف آپ سب کو کال دوں گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے