لاہور کی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
اسپیشل سینٹرل عدالت لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں ملزمان کی بریت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز نے تحریری دلائل عدالت میں جمع کروا دیے ہیں، اور موقف پیش کیا کہ 161 کے بیانات میں بھی کسی گواہ نے شہبازشریف اور حمزہ کا ذکر نہیں کیا۔ فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ اسلم نامی گواہ نے بھی بیان قلمبند کروایا ہے۔
جس پر شہبازشریف کے وکیل نے جواب دیا کہ تفتیشی افسر نے گواہوں کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ شہبازشریف شریف کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پریہ کیس بنایا، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے اکاونٹ میں کوئی رقم نہیں آئی۔
امجد پرویز نے موقف پیش کیا کہ قانون کے مطابق پراسکیوشن کواپناکیس ثابت کرناہے، رشوت کے الزام میں پروسکیوشن کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا، کبھی ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں پروسیکیوشن بغیر ثبوت کے چل رہا ہے۔
وکیل ایف آئی اے فاروق باجوہ نے موقف پیش کیا کہ ملزم مسرورانور شہبازشریف کے اکاونٹ کو آپریٹ کرتا رہا ہے۔ وکیل امجد پرویز نے جواب دیا کہ حقائق کے برعکس ہے، مسرور نے کبھی شہبازشریف کا اکاونٹ آپریٹ نہیں کیا۔
وکیل ایف آئی اے فاروق باجوہ نے جواب دیا کہ تمام بے نامی اکانٹس ہیں انہیں رمضان شوگر مل کے ملازمین آپریٹ کرتے تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
