English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکیہ اور لیبیا: یونان غیر حقیقی الزامات سے باز آجائے

القمر

ترکیہ اور لیبیا نے کہا ہے کہ یونان کو دو ہمسایہ ممالک کے خود مختار فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔

یونان نے اقوام متحدہ کو، ترکیہ اور لیبیا کے درمیان ہائیڈروکاربن وسائل ا ور بحری اختیارات کی حد بندی کے سمجھوتوں پر، اپنی بے اطمینانی سے آگاہ کیا ہے۔

ترکیہ کے اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندے فریدون سنرلی اولو اور لیبیا کے اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندے طاہر السونی نے ایک مشترکہ مراسلے کے ساتھ یونان کو اس اقدام کا جواب دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹریٹ کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یونان "بے بنیاد دعووں اور دلائل کے ساتھ” لیبیا حکومت کی جائز قانونی حیثیت کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یونان کے غیر حقیقی دعووں اور دلائل کے برعکس لیبیا قومی اتحاد حکومت بین الاقوامی سمجھوتے کرنے اور انہیں ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ لیبیا کا آئین حکومت کو دیگر حکومتوں کے ساتھ سمجھوتے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیڈرو کاربن شعبے میں لیبیا اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتوں کے اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی  سیاسی مرحلے سے متضاد ہونے سے متعلق، یونان کے دعوے  کوئی آئینی بنیاد نہیں رکھتے۔اس کے بالکل برعکس یہ سیاسی مرحلہ لیبیا میں سیاسی حل کے روڈ میپ کو انتخابات تک لے جانےوالے تیاری مرحلے کے دوران  حکومت کو مکمل اختیار فراہم کرتا ہے۔یہ مرحلہ تاحال نامکمل ہونے کی وجہ سے اندرونِ ملک بھی اور بیرونِ ملک بھی اختیارات بلا شبہ لیبیا قومی اتحاد حکومت کے پاس ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ اور لیبیا کے درمیان 27 نومبر 2019 کو طے پانے والے بحری اختیارات کے سمجھوتے  اقوام متحدہ سمجھوتے کی شق نمبر 102 کی رُو سے طے کئے گئے اور بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ منصفانہ حل کے حامل ہیں۔ سمجھوتوں کو اپنے خودمختاری حقوق کی خلاف ورزی قرار دینے سے متعلق یونانی دعوے ناقابل قبول ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ یونان نے علاقے میں بحری اختیار میں توسیع کے دعووں کے ساتھ ترکیہ اور لیبیا کے حقِ خودمختاری کو نظر انداز کیااور بحری و بین الاقوامی حقوق کو حسبِ منشا شکل میں پیش کر کے بحری اختیار کی حد بندی میں مساوات کے اصول کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ اور لیبیا کے درمیان ہائیڈروکاربن اور بحری اختیارات کی حد بندی کے سمجھوتے نہ تو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی یونان کے حقِ خود مختاری کی۔ یونان نے ، بحیرہ روم میں ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی سے متعلق ترکیہ اور لیبیا  کی کوششوں کو، اقوام متحدہ پلیٹ فورم پرغیر معتبر کرنے کی کوشش کی ہے۔

مراسلے میں ترکیہ اور لیبیا نے اپیل کی ہے کہ” یونان غیر حقیقی الزامات، مخاصمانہ بیانات اور اشتعالی اقدامات سے باز آجائےاور دو ہمسایہ ممالک کے حقِ خودمختاری کا احترام کرے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے