ترکیہ کے ضلع دیار بکر میں بم دھماکے کے نتیجے میں 8 پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہو گیا ہے۔
دھماکہ اس وقت ہوا جب اسپیشل پولیس فورس کی گاڑی دیار بکر ماردین شاہراہ پر ‘یشیل وادی محلّے’ سے گزر رہی تھی۔
حکومتی اراکین نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
ترکیہ صدارتی دفتر محکمہ اطلاعات کے سربراہ فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ اسپیشل پولیس کی سروس بس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو اس کا بدل چُکانا پڑے گا۔
سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں آلتن نے کہا ہے کہ "میں، دیاربکر میں کئے گئے دہشت گردانہ حملے میں، زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لئے اللہ سے عاجل شفاء کا طلبگار ہوں۔ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو اس کا بدل چُکانا پڑے گا۔ ہم ہر شعبے میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے”۔
حزب اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے نائب چئیر مین اور پارٹی ترجمان عمر چیلک نے بھی سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم دیار بکر میں پولیس گاڑی پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے اور زخمی پولیس اہلکاروں کے لئے جلد شفا یابی کے متمنی ہیں۔ دیار بکر کی ماوں کی دعائیں ان کے ہم قدم ہوں۔ دیار بکر ایک پُر امن اور محفوظ شہر ہے۔ حملہ کرنے والوں اور حملے کی پشت پناہی کرنے والوں سے اس کا جواب پوچھا جائے گا”۔
دوسری طرف حملے سے متعلق حراست میں لئے گئے افراد کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔
