لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ماضی میں فوجی حکومت، قومی حکومت، ٹیکنوکریٹ حکومتوں کے قیام کے شوشے، منصوبے ناکام ہو گئے، ریاستی متشدد قوتیں مزید غلط اور تباہی کے تجربات نہ کریں۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاکستان کی ضرورت شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات کے نتائج تسلیم بھی کریں، 1970ء میں انتخابی نتائج قبول نہ ہونے سے ملک دو لخت ہو گیا، 1977ء میں دھاندلی زدہ انتخابات آج تک ملک میں تلخ اور زہریلی پولرائزیشن کا شکار ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ 2013ء ، 2018ء کے انتخابات مشکوک اور دھاندلی زدہ تھے جس کی وجہ سے احتجاج، عدم استحکام اور اقتصادی تباہی مقدر بنی ہوئی ہے، ملک اب متحمل نہیں ہو سکتا کہ 2023ء عام انتخابات بھی متنازع ہوں۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ سیاسی جمہوری جماعتیں قیادتیں ضد، انا، ہٹ دھرمی اور میں ناں مانوں کی روش ترک کریں، سیاسی بحرانوں کا سیاسی حل تلاش کریں، انتخابی اصلاحات کے لیے قومی جمہوری ڈائیلاگ کیا جائے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ سندھ، پنجاب، کے پی کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کے مسائل حل کیے جائیں، ایڈہاک اساتذہ کی ملازمتوں کو مستقل کیا جائے، حکومتیں تعلیم کے ساتھ کھلواڑ بند کریں۔

