کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جعلی مردم شماری کی منظوری دے کر اور کوٹہ سسٹم کو غیر معینہ مدت تک آگے بڑھاکر اہل کراچی کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے، اب پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ایک بار پھر کراچی کو تباہی و برباری کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرواکے عوام کو ان کے آئینی و قانونی اور جمہوری حقوق سے محروم کرنے کی سازش کر رہی ہے، عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ماضی میں شہر کو تباہ و برباد کرنے اور ایک بار پھر کراچی کو ماضی کے اندھیروں میں دھکیلنے کی کوشش کرنے والوں سے انتقام لیں، ترازو شہر کی تعمیر و ترقی اور اہل کراچی کی کامیابی کا نشان ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے عوام سے اپیل کی ہے کہ 15جنوری کو گھروں سے نکلیں، شہر کی تعمیر ترقی کے لیے تمام تر وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ترازو پر مہر لگائیں اور بلدیاتی انتخابات کو سبوتاژ کرنے والوں کی سازشیں ناکام بنا دیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی ملی بھگت سے انتخابات سے صرف 2دن قبل حلقہ بندیوں کے حوالے سے سندھ حکومت کے نوٹی فیکشن کوواپس لینے اور بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے خط مسترد کرنے اور بلدیاتی انتخابات 15جنوری کو ہی کروانے کے فیصلے اور اعلان کا بھر پور خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس اور بہادر آباد میں بلدیاتی انتخابات کے التواء کی سازشیں اب بھی عروج پر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ الیکشن کا عمل شروع ہو چکا ہے اب کسی بھی قسم کے آڑدیننس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی، جماعت اسلامی الیکشن التواء کے کسی بھی آمرانہ، جانبدارانہ، غیر جمہوری اور کراچی دشمن و عوام دشمن فیصلے کی بھر پور مزاحمت کرے گی۔ ایم کیو ایم کی التواء کی درخواستیں سپریم کورٹ کے علاوہ تین مرتبہ سندھ ہائی کورٹ سے اور الیکشن کمیشن سے بھی مسترد کی جا چکی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ کوئی آرڈی نینس لایا گیا تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے کیونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے چکی ہیں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت بھی سیدھے طریقے سے انتخابات ہونے دے اور کسی بھی سازشی عمل کا حصہ بننے سے باز رہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے اور فرار کا راستہ چاہتی ہے اور سندھ حکومت اسے سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ جب کھیل، کھیلا نہیں جا رہا تو کھیل بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، جماعت اسلامی ایسا ہر گز نہیں ہو نے دے گی۔ حکومت،ریاست اور الیکشن کمیشن کو چیلنج کیا جا رہا ہے، انتخابات ایک آئینی و قانونی عمل ہے اسے سبوتاژ کرنے کی دھمکی دینا آئین سے بغاوت اور حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے، حکومت اور ریاست کسی کو کیسے بغاوت کی اجازت دے سکتی ہے۔

