English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

الیکشن کمیشن بلا تاخیر حق و انصاف پر مبنی فیصلہ کرے، حافظ نعیم

اسلام آباد:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن میں ایک بار پھر اپنے اس واضح اور دوٹوک موقف کا اعادہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن مزید تاخیر کے بجائے نتائج کے حوالے سے زیر التواء تمام نشستوں کے معاملات فوری طور پر طے کرے اور کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر حق اور انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔

حافظ نعیم الرحمن  نے بلدیاتی انتخابات میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی طرف سے جماعت اسلامی کی چھینی گئی نشستوں کے حوالے سے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی سماعت میں شرکت کی، ان کے ہمراہ جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے سربراہ اور قانونی امور کے نگراں سیف الدین ایڈوکیٹ اور دیگر بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے  کہا کہ ملتوی شدہ 11نشستوں کے انتخابی شیڈول کا فوری اعلان کرے ، دوبارہ گنتی کے نام پر جن نشستوں پر دھاندلی اور نتائج کی تبدیلی ثابت ہوئی ہے پھر بھی اس کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ہے اسے ڈی نوٹیفائی کرے ، جن آر اوز ڈی آر اوز سے شکایات ہیں اور جو سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے زیر اثر ہیں معاملات دوبارہ ان ہی کی طرف بھیجنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہاکہ  اہل کراچی نے جماعت اسلامی کو جو مینڈیٹ دیا ہے ، اس کا اور اپنی ایک ایک سیٹ کا تحفظ کریں گے اور اس کے لیے ہر قسم کا آئینی و قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کریں گے ، احتجاج اور دھرنا ہمارا آئینی و قانونی حق ہے ، اس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے ۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جمعہ 17مارچ کو شاہراہ فیصل سمیت شہر کی 10اہم شاہراؤں پر دھرنے دیں گے، جعل سازی اور نتائج تبدیل کرنے کے حوالے سے تمام حقائق اور ثبوت ہم پیش کر چکے ہیں اور الیکشن کمیشن کے سامنے بھی سارے معاملات آگئے ہیں لیکن پھر بھی 2ماہ ہو گئے الیکشن کمیشن نے اپنا کام نہیں کیا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ  اس کی ذمہ داری تھی کہ تمام حقائق و دستاویزات کا فارنزک آڈٹ کرایا جاتا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کا ایک ہی انگوٹھا دو الگ الگ نتائج پر لگا ہو، سارے جعلی فارم11کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے جعل سازی کی کاری گری کے لیے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو بہت وقت دیا گیا اور اس نے  پریزائڈنگ افسران پر دبائو ڈال کر ڈرا دھمکا کر اور نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دے کر اپنی مرضی کے نتائج کے فارم 11پر ان سے دوبارہ دستخط کروائے اور انگوٹھے کے نشانات بھی لگوائے ،دوبارہ گنتی میں صرف جماعت اسلامی کے ووٹ ضائع کیے گئے اور ڈبل مہریں بھی صرف ترازو کے نشان پر ہی لگی نکلیں اور مہریں بھی ایسی کے ایک ہی بیلٹ پیپر پر دو الگ الگ مہریں ۔ ووٹوں کے تھیلے پھٹے ہوئے نکلے ، لفافوں کی سیلیں ٹوٹی پائی گئیں ، اصل فارم 12دکھائے بغیر دوبارہ گنتی کی گئی اور ان تمام بے ضابطگیوں اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باوجود دوبارہ گنتی کی گئی اور ہمارے نمائندوں کے ان اعتراضات کو سنا ہی نہیں گیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے