اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان بدستور جاری ہے۔ رواں ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.05 فیصد اضافہہوا جب کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 48.35فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران آٹے، چینی، گائے اور مرغی کے گوشت، انڈوں، دالوں، دودھ اور دہی سمیت بنیادی ضروریات زندگی کی 30 اشیا مہنگی ہوئیں جب کہ 9 کی قیمتوں میں کمی آئی اور 12 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ایک ہفتے میں زندہ مرغی فی کلو 35 روپے 74 پیسے مہنگی ہوئی، آلو 3 روپے، دال چنا 4 روپے 82 پیسے، دال مسور 5 روپے 11 پیسے مہنگی ہوئی۔ علاوہ ازیں دال ماش 6 روپے 81 پیسے، دال مونگ ایک روپیہ 42 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی جب کہ انڈے 4 روپے 89 پیسے فی درجن اور آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 24 روپے سے زائد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے مٹن، تازہ دودھ، دہی، بیف اورچینی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ پیاز 14 روپے، لہسن12 روپے اور ٹماٹر کی قیمت میں 1 روپے فی کلو کم ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران برانڈڈ گھی اور سرسوں کا تیل بھی سستا ہونے والی اشیا میں شامل رہا۔ قیمتوں کے اعشاریہ(ایس پی آئی) کے لحاظ سے گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں ملک میں مہنگائی کی شرح48.35فیصد رہی ہے۔
حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں44.47فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں47.90فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والےکے لیے مہنگائی کی شرح میں447.90فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 48.15فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 49.75فیصدرہی ہے۔
