اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ افغانستان میں خواتین اہلکاروں پر طالبان انتظامیہ کی طرف سے عائد پابندی کی وجہ سے انسانی امدادی کاروائیاں بدستور متاثر ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ڈپٹی ترجمان فرحان حق نے یومیہ پریس کانفرنس میں افغانستان میں خواتین اہلکاروں پر کام پر پابندی سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔
فرحان حق نے توجہ مبذول کرائی کہ افغان عوام کی انسانی امداد کی ضرورتیں بہت زیادہ ہیں،”ہمیں ایک چیلنج کا سامنا ہے۔ جب ہم ان ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان رکاوٹوں کی وجہ سے ہماری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ تمام اہلکاروں، مرد اور خواتین کو افغانستان میں کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے کے حوالے سے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”
انہوں نے بتایا کہ ہم افغانستان کے بارے میں اپنے موقف اور پالیسیوں پر مسلسل نظرثانی کرتے ہوئے کام کرنے کے مناسب طریقہ کار کے متلاشی رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا خواتین اور مرد اہلکار اہم فرائض کے علاوہ گھر سے بھی کام کرتے ہیں، ملک میں انسانی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
فرحان حق نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ ایسے اقدامات سے گریز کرتا رہے گا جس سے اس کے اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو۔
